سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 211 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 211

۲۱۱ طرح ان کی فیکٹریوں اور کار خانوں وغیرہ پر قبضہ کر لیں گے تو اس کے بعد لڑائی کے لیے ان کے پاس کونسی چیز باقی رہ جاتے گی ؟ کیونکہ ایجادات کا سلسلہ دنیا میں جاری ہے اور اس وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر ان ہتھیاروں کو چھین لیا گیا تو اس کے بعد لڑائی کے لیے کسی نئی چیز کی ایجاد نہیں ہو سکے گی۔گذشتہ جنگ میں توپوں کی کثرت تھی اور خیال کیا جا تا تھا کہ اگر کسی قوم سے تو ہیں لے لی جاتیں تو وہ لڑائی کے ناقابل ہو جاتی ہے مگر اس کے بعد ہوائی جہاز نکل آتے اور اب موجودہ جنگ میں تو فلائنگ ہم کی ایجاد سے خطرہ بہت بڑھ گیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کے اس کو برباد کرنے والی ایک خطرناک ایجاد ہے جو بنی نوع انسان کو توپوں اور ہوائی جہازوں سے بھی بڑھ کر نقصان پہنچا سکتی ہے۔جب آج تک ایجادات کا سلسلہ جاری رہا اور جنگ کے اسلحہ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے تو کسی کو کیا پتہ کہ کل کوئی ایسی گیس نکل آتے جس کا لوگوں کو علم بھی نہ ہو اور وہ آناً فاناً ان کو ہلاک کر دے پیپس یہ بالکل احمقانہ بات ہو گی اگر یہ خیال کر لیا جاتے کہ فلاں ملک کو ہم نے مغلوب کر لیا ہے وہ ایک چھوٹا سا ملک ہے چند لاکھ اس کی آبادی ہے ہتھیار اس سے چھین لیے گئے ہیں اور اب وہ ہمارے خلاف لڑائی کے لیے کبھی کھڑا نہیں ہو سکتا جب دلوں میں بغض اور کینہ موجود ہو اور لوگوں کے اندر یہ احساس ہو کہ ہم نے دوسری قوم سے انتقام لینا ہے تو وہ ایسے ہتھیار ایجاد نہیں کرتے جن کے کارخانے لوگوں کو نظر آتے ہوں بلکہ وہ اس قسم کے ہتھیاروں کے بنانے میں مشغول ہو جاتے ہیں جن کے کارخانے نظر نہیں آتے اور اس طرح باوجود ہتھیار بنانے کے وہ پکڑے نہیں جاتے " الفضل ۲ جنوری ۹۳۵له ) جنگ اور خونریزی کے متعلق اپنا اصولی موقف بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : "ہمارا مذہبی اور اخلاقی فرض ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اعلان کر دیں کہ ہم اس قسم کی خونریزی کو جائز نہیں سمجھتے خواہ حکومتوں کو ہمارا یہ اعلان بُرا لگے یا اچھا“ نیز ان باتوں کے نتیجہ میں مجھے نظر آرہا ہے کہ آئندہ زمانہ میں جنگیں کم نہیں ہوں گی بلکہ بڑھیں گی اور وہ لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اٹانک سے بڑی طاقتوں کے ہاتھ مضبوط ہو جائیں گے اور ان کے مقابلہ میں کوئی جنگی طاقت حاصل نہیں کر سکے گا۔یہ لغو اور بچوں کاسا