سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 197
196 اس بات کا امکان سمجھتا تھا کہ جرمن ساحل انگلستان پر حملہ کریگا۔اور اس میں کامیاب ہو جاتے گا۔پھر لنڈن پر حملہ کردیگا اور اس میں کامیاب ہو جائیگا۔یہانتک کہ وہ اس بات کا بھی امکان سمجھتے تھے کہ حکومت لنڈن سے بھاگ جاتے اور کینیڈا چلی جائے مگر ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے مجھے دوسری خبر یہ دی کہ یہ چھے مہینے پہلے کی بات ہے یعنی چھ ماہ کے بعد انگریزوں کی حالت بدل جائے گی۔اس وقت چوہدری ظفراللہ خان صاحب سے جیسا کہ انہوں نے بعد میں سنایا۔وائسرائے یا کسی اور نے ایک دفعہ پوچھا کہ ظفر اللہ خان تم اس جنگ کا کیا نتیجہ سمجھتے ہو۔انہوں نے کہا کہ ہمارے امام نے خواب دیکھا ہوا ہے کہ چھ ماہ کے بعد یہ حالات بدل جائیں گے۔اس لیے میں تو یقین رکھتا ہوں کہ چھ ماہ تک یہ خطرہ کی حالت دور ہو جائیگی۔چنانچہ عین چھ ماہ کے بعد ار دسمبر کو اٹلی کو پہلی شکست ہوئی اور انگریزوں کی حالت میں تبدیلی پیدا ہونی شروع ہوگئی اور وارد میر کو پرائم منٹ نے ہاؤس آف کامنز میں اعلان کیکہ " اب ہم پہلے سے محفوظ ہو گئے ہیں۔اور ہم نے ایک ایسی حالت سے ترقی کی ہے جبکہ ہمارے بہترین دوست بھی اس بات سے مایوس ہوچکے تھے کہ ہم مقابلہ جاری رہ سکیں گے۔النڈن ٹائمز مورخہ ۱۹ر دسمبر اته یہ دو دھاری تلوار تھی جو مجھے عاکی گئی کہ یک رویاء کے ذریعہ دو جری دی گئیں ، ایک خبر تو ایسی دی گتی کہ جس کی دُنیا کی تاریخ میں اور کوئی مثال نہیں ملتی۔اور دوسری خبر یہ دی گئی کہ چھ ماہ کے بعد یہ خطرہ کی حالت جاتی رہے گی۔چنانچہ ٹھیک چھ ماہ کے بعد حالات میں تبدیلی رونما ہوئی اور مٹر الیگزینڈر جو انگریزوں کے وزیر بکری تھے انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جون جولائی میں رجب حکومت برطانیہ نے حکومت فرانس کو تار دیا تھا کہ دونوں ملکوں کی حکومت ایک کردی جائے اور فرانس کا برطانیہ سے الحاق ہو جانا چاہیئے ) ہر وہ شخص جو جنگی فنون سے ذرا بھی واقفیت رکھتا ہے یہ نہیں کر سکتا تھا کہ ہم پھر امن میں آجائیں گے۔اگر کوئی ایسی بات کہتا تو یا تو میں اُسے سیاست سے بالکل نابلد اور نا واقف کہتا اور یا میں اُسے احمق اور پاگل خیال کرتا۔گویا انگریزوں کی حالت اتنی نازک اور خراب تھی کہ اُن کے نزدیک اس قسم کا خیال کرنا بھی کہ اُن کی حالت چھ ماہ تک بدل جائے گی ، احمقانہ اور مجنونانہ خیال تھا مگر جبکہ حکومت کے بڑے بڑے مدیر یہ کہ رہے تھے کہ انگر یز خطرہ میں گھر گئے ہیں۔اب ان کے لیے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ کینیڈا پہلے جائیں اور مقابلہ جاری رکھیں، خدا نے انی