سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 172
144 ڈاکٹر ایس ایس بیان صدرشعبه تاریخ ادب ادبیات ارت ایران یونیورسٹی یونسٹن امریکہ نے " اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ------ - بحیثیت مجموعی انگریزی زبان کے اسلامی لٹریچر میں یہ ایک قابل قدر اضافہ ہے جس کے لیے دنیا جماعت احمدیہ کی از حد ممنون ہے ؟ ۶۷۴ ( تاریخ احمدیت جلد دہم ) پروفیسر ایچ اے آر گب نے اسے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے تحریر کیا۔په ترجمه قرآن مجید کو انگریزی زبان کا جامہ پہنانے کی ہر سابقہ کوشش۔در هم ) کے مقابلہ میں زیادہ قابل تحسین ہے ( تاریخ احمدیت جلد دہم ص رچرڈ بیل نے لکھا : زبان کے لحاظ سے اس کی انگریز می نقائص سے پاک ہے۔۔۔۔۔۔یقیناً قرآنی تعلیمات کو جامعیت کے ساتھ پیش کرنے کا یہ انداز جدت کا حامل اور ہر طرح تحسین کے قابل ہے۔اگر انجمن اقوام متحدہ اس میں بیان کردہ اصولوں پر عمل پیرا ہو سکے تو یقیناً کسی حد تک وہ اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔تفسیر جامع ہے اور بہت حد تک روحانی اقدار اور ان کی احسن تقسیم کی آئینہ دار ہے۔460۔( تاریخ احمدیت جلد دهم ۷۵ ) مدرسہ السنہ شرقیہ پیرس کے پروفیسر ادبیات MR REGIS BLACHERE نے اسی ترجمہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا : ترجمہ کی یہ صحت جس سے قرآن کے مشکل اور مبہم مقامات کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے ہر تعریف سے بالا ہے۔اس ترجمہ کے بارہ میں یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اس سے قبل قرآن کریم کے یورپی زبانوں میں جس قدر تراجم ہوتے ہیں وہ اس اہتمام سے عاری ہیں کہ وہ لوگ بھی جو عربی متن کے ظاہری و باطنی مطالب سے نابلد ہوں اس سے فائدہ اُٹھا دشق کے مشہور عیسائی اخبار النصر نے اس ترجمہ کو بے نظیر قرار دیتے ہوئے لکھا:۔" ہمیں قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ دیکھ کر بہت ہی خوشی ہوتی ہے۔یہ ترجمہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ کی زیر نگرانی کیا گیا ہے۔ترجمہ جاذب نظر اور بلند پایہ