سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 16
14 ہوتے ہیں وہ اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جبکہ متواتر کئی نسلیں ان کو پورا کرنے میں لگی رہیں جتنا وقت ان کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہو اگر اتنا وقت ان کو نہ دیا جائے تو ظاہر ہے کہ وہ کسی صورت میں مکمل نہیں ہو سکتے۔اور اگر وہ عمل نہ ہوں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ پہلوں نے اس پروگرام کی تکمیل کے لیے جو محنتیں۔کوششیں اور قربانیاں کی ہیں وہ بھی سب رائیگاں گئیں۔الفضل ۷ ار فروری ۹۳ ) قومی ترقی کا تمام تر انصار نوجوانوں پر ہوتا ہے۔اگر کسی قوم کے نوجوان ان روایات کے صحیح طور پر حامل ہوں جو اس قوم میں چلی آتی ہوں تو وہ قوم ایک لیے عرصہ تک زندہ رہ سکتی ہے لیکن اگر آئندہ پو د کمی ہو تو قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی بلکہ جو ترقی حاصل ہو چکی ہو وہ بھی تنترل سے بدل جاتی ہے " الفضل ۲۷ دسمبر دسمبر خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ دینی اور تمدنی کاموں میں حصہ لینے کی تحریک بجائے اس کے کہ بڑی عمر کے لوگ انہیں کریں۔ان کے ہم عمر ہی انہیں ان کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب دے دیا کریں۔اگر بڑی عمر کے لوگ یہ کہیں کہ نمازیں پڑھو تو مکن ہے وہ اس پر کسی قدر بُرا منائیں، لیکن اگر ہم عمر کیں گے کہ نمازیں پڑھو تو وہ اس تحریک کو زیادہ جلد قبول کرنے کے لیے تیار ہونگے۔اور چونکہ وہ آپس میں لڑ جھگڑ بھی لیتے ہیں اس لیے ان میں انٹر کی اور مردنی پیدا نہیں ہو سکتی۔غرض خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ نئی پود دینی رنگ میں رنگین ہو جائے اور وہ ایک دوسرے سے مل کر تعلیم و تربیت کا انتظام کرنے والی ہوئی ( رپورٹ مجلس مشاورت له م ) آج نوجوانوں کی ٹرینینگ اور ان کی تربیت کا زمانہ ہے اور ٹرینینگ کا زمانہ خاموشی کا زمانہ ہوتا ہے۔لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کچھ نہیں ہو رہا۔مگر جب قوم تربیت پا کر عمل کے میدان میں نکل کھڑی ہوتی ہے تو دنیا انجام دیکھنے لگ جاتی ہے۔درحقیقت ایک ایسی زندہ قوم جو ایک ہاتھ کے اُٹھنے پر اُٹھے اور ایک ہاتھ کے گرنے پر بیٹھ جاتے۔دنیا میں عظیم الشان تغییر پیدا کر دیا کرتی ہے " الفضل ، اپریل ) " در حقیقت خدام الاحمدیہ میں داخل ہونا اور اس کے مقررہ قواعد کے ماتحت کام کرنا ایک اسلامی فوج تیار کرنا ہے۔مگر ہماری فوج وہ نہیں جس کے ہاتھوں میں بندوقیں یا