سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 13
۱۳ انة الرحمن الرحيم والحيرة الشاملة پس منظر: قادیان کے روح پرور ماحول اور حضرت مصلح موعود کی روحانی توجہ اور تربیت سے فیض یافتہ چند خوش قسمت نوجوانوں کو شہ میں یہ خیال سوجھا کہ وہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی خدمت اور فریضہ تبلیغ و اشاعت سر انجام دینے کے لیے ایک مجلس قائم کریں۔حضور کی خدمت میں یہ تجویز بغرض منظوری پیش ہوئی تو حضور نے بخوشی اس نیک کام کی اجازت مرحمت فرمائی اور مجلس کا نام خدام الاحمدیہ تجویز فرمایا۔اس مجلس کے قیام کے وقت کس نے یہ سوچا ہوگا کہ یہ نھا سا بیج جو سرزمین قادیان میں حضور کی نگرانی میں بویا جارہا ہے وہ قدم بہ قدم اتنی ترقی کر جاتے گا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں دنیا بھر میں اس کی سرسبز و شمر شاخیں پھیل جائیں گی اور قوم کی ریڑھ کی ہڈی اور مستقبل کی ترقی کے ضامن نوجوان اس تربیت گاہ سے نکل کر دنیا بھر میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے نتے ریکارڈ اور تاریخی کارنامے سرانجام دیں گے۔اس جگہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یہ میں حضور تحریک جدید کی انقلابی سیم جاری فرما چکے تھے۔مجلس خدام الاحمدیہ اس تحریک کی ولولہ انگیز سرگرمیوں کا ایک طبعی نتیجہ اور شیریں پھل ہے جو تحریک کو آگے بڑھانے اور اس کے مقاصد کے حصول کے لیے جہاد کرنے والوں کا ہراول دستہ بن گئی حضور نے ابتداء میں یہ صراحت فرما دی تھی کہ کوئی نیا پروگرام بنا نا تمہارے لیے جائزہ نہیں پروگرام تحریک جدید کا ہی ہوگا اور تم تحریک جدید کے والنٹیرز ہو گے تمہارا فرض ہوگا کہ تم اپنے ہاتھ سے کام کرو۔تم سادہ زندگی بسر کرو۔تم دین کی تعلیم دو۔تم نمازوں کی پابندی کی نوجوانوں میں عادت پیدا کرد تیم تبلیغ کے لیے اوقات وقف کرد کچھ عرصہ گذرنے کے بعد تحریک جدید کے بعض معین کام مجلس کی ذمہ داری اور نگرانی میں دے دیتے گئے۔اس طرح مجلس براہ راست تحریک جدید کے مجاہدین میں اضافہ ، چندوں کی بر وقت وصولی اور واقفین زندگی مہیا کرنے کی مہم میں بھی نمایاں خدمت سرانجام دینے لگی۔اس مجلس کے آغاز کا ذکر الفضل از اپریل ـ