سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 88
سرانجام دینے پر مبارکبا د عرض کروں۔ر تواریخ مسجد فضل منگ اسی طرح مها را خیر الور کی طرف سے پیغام ملا کہ : ہنزہائی نس آپ کو اور آپ کی جماعت کو دلی مبارکباد دیتے ہیں کہ آپ نے مسجد کے نام سے ایک عبادت گاہ بنائی ہے جہاں ہم سب کے محبوب اور مشترک رب العالمین کا ذکر و ( تواریخ مسجد فضل مد ) عبادت ہوگی " حضرت فضل عمران نے اس تاریخی تقریب پر بذریعه نار مندرجہ ذیل پیغام ارسال فرما با جو اس تقریب میں پڑھ کر سنایا گیا۔ہم لوگوں کا مقصد اس مرکز توحید میں بیٹھ کر محبت اور اخلاص کے ساتھ واحد خدا کی پرستش کا رائج کرنا اور اس کی محبت کو قائم کرنا ہوگا ہم مذاہب سے منافرت اور تباغض کو دور کر کے تحقیق کی سچی روح کو پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور اخلاق کی درستی اور نظلم کے مثانے کی سعی کریں گے۔آقا اور نوکر گورے اور کالے مشرقی اور مغربی کے درمیان تعلقات اخلاص اور حقیقی مساوات جس میں جائز فوقیتوں کا تسلیم کرنا شامل ہوگا ہمارا مقصد ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔اسے بھائیو ! دنیا شرک ، بے دینی ، خدا سے بے توجہی ملکی تباغش، قومی تنافر اور جماعتی کش مکشوں کی جولان گاہ ہو رہی ہے۔پس ہر ایک جو خدا تعالیٰ سے محبت رکھتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی غفلت سے بیدار ہو اور خدا کے نام پر بناتے ہوئے گھروں کو بے دینی اور شقاق کا مرکز بنانے کی بجائے توحید اور اتحاد کا مرکز بنائے۔آؤ ہم سب مل کر توحید کو حیں پر سب کا اتفاق ہے قائم کریں۔ہم لوگوں کے اندر یہ روح پیدا کریں کہ وہ تعصب سے آزاد ہو کر جو سب سے بڑا ئیت ہے خُدائے واحد کی دیانت داری سے جستجو کریں اور خواہ وہ کسی مذہب میں ہو اسے قبول کرلیں۔ہم اس خدا کی طرف نہ جھکیں جو ہمارے دماغوں نے پیدا کیا ہے کیونکہ خواہ ہم اس کا نام کچھ رکھیں وہ ایک بہت ہے بلکہ اس خدا کی طرف جھکیں کہ جو سب دنیا کا خالق ہے جس کے جلوسے دنیا کے ہر ذرے میں نظر آتے ہیں جو اپنی زندہ طاقتیں ہمیشہ اپنے مقدسوں کے ذریعہ سے ظاہر کرتا رہتا ہے۔اور پھر اس مشرق و مغرب کے خدا پر ایمان لاتے ہوئے یہ کوشش کریں کہ دنیا میں امن و امان قائم ہو۔ایک ملک کے اندرونی