سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 76 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 76

24 - امن عامہ کے لیے قربانی کرنے کے لیے تیار نہ ہونے کے سبب سے۔ان پانچوں نقائص کو دور کر دیا جائے تو قرآن کریم کی بتائی ہوتی لیگ آف نیشنز نفتی ہے۔اور اصل میں ایسی ہی لیگ کوئی فائدہ بھی دے سکتی ہے۔نہ وہ لیگ جو اپنی ہستی کے قیام کے لیے لوگوں کی مہربانی کی نگاہوں کی جستجو میں بیٹھی رہے۔اصل بات یہ ہے کہ کبھی بین الاقوامی جھگڑ سے دور نہ ہونگے جب تک اقوام بھی اپنے معاملات کی بنیاد اخلاق پر نہ رکھیں گی۔جس طرح کہ افراد کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے کاموں کی بنیاد اخلاق پر رکھیں اسی طرح حکومتوں کو بھی اخلاق کی نگہداشت کی طرف توجہ دلانی چاہیتے فساد بعض اسباب سے پیدا ہوتے ہیں۔پہلے ان کی اصلاح کرنی چاہیئے۔پھر خود جھگڑے کم ہو جائیں گے۔اور اگر باوجود اس اصلاح کے کسی وقت کوئی جھگڑا پیدا ہو جاتے تو اس کے دور کرنے کے لیے اسلامی اصول پر ایک انجمن اصلاح بنانی چاہیئے جو ان جھگڑوں کا فیصلہ کرے۔دہ وجوہ جن سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں چند اخلاقی نقص ہیں۔(۱) یہ کہ حکومتوں اور رعایا کے تعلقات درست نہیں۔اگر اسلامی نقطہ نظر کو مد نظر رکھا جائے کہ ہر ایک ملک کی رعایا کا فرض ہے کہ یا تو اس حکومت سے تعاون کرے میں کے ماتحت وہ رہتی ہے یا اس ملک کو چھوڑ کر چلی جائے تا دوسروں کا بھی امن برباد نہ ہو تو کبھی کسی قوم کو دوسری قوم پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہو۔کیونکہ کوئی قوم اس امرکو پسند نہیں کرے گی کہ ایک بنجر ملک پر قبضہ کرے۔اور (۲) یہ نقص ہے کہ مختلف حکومتوں کو یہ یقین ہے کہ ان کی قومیں صرف اس خیال سے کہ وہ ان کی حکومتیں ہیں ان کا ساتھ دینے کو تیار ہیں۔اس لیے وہ بے خوف ہو کر دوسری قوموں پر حملہ کر دیتی ہیں اگر مندرجہ ذیل اصل جسے اسلام نے پیش کیا ہے قبول کیا جائے کہ " تو اپنے بھائی کی مدد کر۔اگر وہ مظلوم ہے تو دوسروں کے حکم سے اسے بچا اور اگر وہ ظالم ہے تو اس کو اپنے نفس کے ظلم سے بچا تو جنگوں میں بہت کچھ کی آجاتے۔اس وقت قومی تعصب اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اپنی قوم کا سوال پیدا ہوتا ہے تو سب لوگ بلا غور کرنے کے ایک آواز بہر جمع ہو جاتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اگر ہماری حکومت کی غلطی ہے تو ہم اس کو سمجھا دیں۔غرض ایک طرف غداری اور ایک طرف قومی تعصب جنگوں کا بہت