سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 75 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 75

اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی تو لازما ان فائدہ اُٹھانے والی قوموں میں آپس میں بھی تباغض اور تحاسد بڑھے گا۔اور جس قوم کو وہ زیر کرنیگی اس کے ساتھ بھی نیک تعلقات پیدا نہیں ہو سکیں گے۔اور مجلس بین الا قوام سے دنیا کی حکومتوں کو سچی ہمدردی بھی پیدا نہ ہو سکے گی۔پس چاہتے کہ اس جنگ کے بعد صرف اسی جھگڑے کا تصفیہ ہو جس پر جنگ شروع تھی نہ کہ کسی اور امر کا۔اب رہا یہ سوال کہ جو اخراجات جنگ پر ہوں گے وہ کس طرح برداشت کئے جائیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اخراجات جنگ سب قوموں کو خود برداشت کرنے چاہئیں اور یہ بوجھ ہرگز زیادہ نہیں ہوگا۔اول تو اس وجہ سے کہ مذکورہ بالا انتظام کی صورت میں جنگیں کم ہو جائیں گی اور کسی قوم کو جنگ کرنے کی جرات نہ ہوگی۔دوسرے چونکہ اس انتظام میں خود غرضی اور بوالہوسی کا دخل نہ ہو گا سب اقوام اس کی طرف مائل ہو جائیں گی اور مصادرت جنگ اس قدر تقسیم ہو جائیں گے کہ ان کا بوجھ محسوس نہ ہوگا۔تیسرے چونکہ اس انتظام کا فائدہ ہر اک قوم کو پہنچے گا۔کیونکہ کوئی قوم نہیں جو جنگ میں مبتلا ہونے کے خطرہ سے محفوظ ہو۔اس لیے انجام کو مد نظر رکھتے ہوتے یہ خرج موجودہ اخراجات سے جو تیاری جنگ کی نیت سے حکومتوں کو کرنے پڑتے ہیں کم ہوں گے اور اگر بفرض محال کچھ زائد خرچ کرنا بھی پڑے تو جس طرح افراد کا فرض ہے کہ امن عامہ کے قیام کی خاطر قربانی تحریں اقوام کا بھی فرض ہے کہ قربانی کر کے امن کو قائم رکھیں۔وہ اخلاق کی حکومت سے بالا نہیں ہیں بلکہ اس کے ماتحت ہیں۔میرے نزدیک سب فساد اسی اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو قرآن کریم کی پیش کردہ تجویز سے کیا جاتا ہے۔1- یعنی آپس کے انفرادی سمجھوتوں کی وجہ سے جو پہلے سے کئے ہوئے ہوتے ہیں، حالانکہ ان کی بجاتے سب اقوام کا ایک معاہدہ ہونا چاہیئے۔- جھگڑے کو بڑھنے دینے کے سبب سے۔حکومتوں کے جنبہ داری کو اختیار کر کے ایک فریق کی حمایت میں دخل دینے کے سبب ہے۔۴۔شکست کے بعد اس قوم کے حصے بخرے کرنے اور ذاتی فوائد اُٹھانے کی خواہش کے پیدا ہو جانے کے سبب سے۔