سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 52 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 52

۵۲ کو میدان جہاد میں لاکھڑا کیا۔میرے نزدیک ہماری ذلت و رسوائی اور میدان کشاکش میں شکست و پسپائی کا ایک بہت بڑا سبب یہی غلط معیار شرافت ہے؟ از مزم لاہور ۲۳ جنوری یہ بحواله الفضل (۱۸ اپریل ۱۹۳۵) مجلس خدام الاحمدیہ نے جہاں تنظیمی و تربیتی امور میں بہت مفید خدمات کی توفیق پائی وہاں علمی میدان میں بھی اس کا ریکارڈ قابل رشک ہے۔ہر سال منعقد ہونے والی دینیات کلاسیں، تربیتی کلاسیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام و خلفاء سلسلہ کی کتب کے امتحانات مختلف فنی کورسز مجلس حسن بیان و مجلس سلطان القلم کے اجلاس مختلف فنون و علوم میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے جلسہ سالانہ اور سالانہ اجتماع کے مواقع پر نمائش کا انعقاد غرضیکہ ہر اس ذریعہ کو استعمال کرتے ہوئے جو مجلس کے اغراض و مقاصد اور لائحہ عمل کے خلاف نہیں تھا۔جماعت احمدیہ کی آئندہ نسلوں کی ذہنی وسعت و ترقی اور علم کی ترویج کا انتظام کیا مجلس کی کامیابی اور اس کے دور رس مفید اثرات کا اندازہ اس امر سے بھی ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو جماعت میں اسے جزو لاینفک کی حیثیت حاصل ہوگئی اور جہاں ہرا ہم کام اس مجلس کے سپرد کر کے اس کی تکمیل وکامیابی کا یقین ہو جاتا تھا وہاں دوسری طرف وہ لوگ جو اپنے آپ کو جماعت کے مخالف سمجھتے ہیں ان کے لیے یہ مجلس ایک افسانوی طرز کا ہوا بن گئی اور وہ مخالفانہ پروپے گنڈا کے لیے جماعت کے ہر کام کو غلط رنگ دیر اسے خدام کی کارگزاری میں ڈال کر لوگوں کو خدام کے نام سے ڈرانے لگے حالانکہ مجلس نے تو اپنے نام اور لائحہ عمل کی رعایت سے خدمت کے نئے نئے میدان دریافت کر کے اپنی خادمانہ حالت میں ترقی کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد إِذَا تَوَاضَعَ الْعَبُدُ رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَابِعَةِ کو " پیش نظر رکھ کر غیر معمولی کامیابی اور رفعت حاصل کی۔به وبره