سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 51
مجلس کو حکم نہیں دے سکتا۔البتہ جماعتی کاموں (مثلاً جلسے وغیرہ) کے متعلق مجلس کو EST (یعنی گذارش کر سکتا ہے اور مجلس خدام الاحمدیہ کو ایسے کاموں میں تعاون کرنا چاہتے کیونکہ وہ بنائی ہی اس غرض کے لیے گئی ہے۔اگر وہ تعاون نہ کرے گی تو اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرے گی۔نیز امیر کسی فرد جماعت سے بحیثیت فرد ہونے کے کام لے سکتا ہے نہ بحیثیت رکن مجلس ہونے کے ایک شخص جماعت کا سیکرٹری ہے اور مجلس خدام الاحمدیہ کا رکن بھی ہے۔جب جماعتی کام ہو گا تو اسے ہر حال مجلس کے کام پر جماعتی کام مقدم رکھنا ہوگا اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص گورنمنٹ کا ملازم ہو تو اسے ہر حال پہلے گورنمنٹ الفضل ۲۵ ستمبر ۱۳۲ ) کا کام کرنا ہو گا۔مختلف تنظیموں سے صحیح فائدہ اُٹھانے کی صلاحیت ان کی کامیابی اور موثر رہنمائی اور اس کے شاندار نتائج۔یہ ایسے واضح حقائق تھے جن سے اپنے تو اپنے غیر بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔چنانچہ جماعت احمدیہ کی مخالفت میں بدنامی کی حد تک شہرت یافتہ مجلس احرار کا ترجمان " زمزم "جماعت کی اس قابل رشک تنظیم کا ذکر کرتے ہوئے بصد حسرت و یاس لکھتا ہے : ایک ہم ہیں کہ ہماری کوئی بھی تنظیم نہیں اور ایک وہ ہیں کہ جنکی تنظیم در تنظیم کی نظمیں ہیں۔ایک ہم ہیں کہ آوارہ منتشر اور پریشان ہیں۔ایک وہ ہیں کہ حلقہ در حلقہ محدود ومحصور اور مضبوط اور منظم ہیں۔ایک حلقہ احمدیت ہے۔اس میں چھوٹا بڑا زن و مرد بچہ بوڑھا۔ہر احمدی مرکز" نبوت پر مرکوز و مجتمع ہے مگر تنظیم کی ضرورت اور برکات کا علم و احساس ملاحظہ ہو کہ اس جامع و مانع تنظیم پر بس نہیں۔اس وسیع حلقہ کے اندر متعدد چھوٹے چھوٹے حلقے بنا کر ہر فرد کو اس طرح جکڑ دیا گیا ہے کہ ہل نہ سکے۔عورتوں کی منتقل جماعت لجنہ اماءاللہ ہے۔اس کا مستقل نظام ہے، سالانہ جلسہ کے موقعہ پر اس کا جدا گانہ سالانہ جلسہ ہوتا ہے۔خدام الاحمدیہ نو جوانوں کا جدا نظام ہے۔پندرہ تا چالیس سال کے ہر فرد جماعت کا خدام الاحمدیہ میں شامل ہونا ضروری ہے۔چالیس سال سے اوپر والوں کا مستقل ایک اور حلقہ ہے۔انصار اللہ جس میں چوہڑی سر محمد ظفر اللہ خان تک شامل ہیں۔میں ان واقعات اور حالات میں مسلمانوں سے صرف اس قدر دریافت کرتا ہوں کہ کیا ابھی تمہارے جاگنے اور اُٹھنے اور منظم ہونے کا وقت نہیں آیا؟ تم نے ان متعدد مورچوں کے مقابلہ میں کوئی ایک بھی مورچہ لگایا ؟ حریف نے عورتوں تک