سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 365
۳۶۵ شروع کیا تو رویا۔میں مجھے یوں معلوم ہوا جیسے میں انسانی مقدرت سے زیادہ تیزی کے ساتھ دوڑ رہا ہوں۔اور کوئی ایسی زبر دست طاقت مجھے تیزی سے لے جارہی ہے کہ میلوں میں ایک آن میں میں طے کرتا جا رہا ہوں۔اس وقت میرے ساتھیوں کو بھی دوڑنے کی ایسی ہی طاقت دی گئی جگہ پھر بھی وہ مجھ سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور میرے پیچھے ہی جرمن فوج کے سپاہی میری گرفتاری کے لیے دوڑتے آرہے ہیں مگر شاید ایک منٹ بھی نہیں گذرا ہو گا کہ مجھے دویا۔میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ جرمن سپاہی بہت پیچھے رہ گئے ہیں مگر میں چلتا چلا جاتا ہوں۔اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ زمین میرے پیروں کے نیچے سمٹی چلی جارہی ہے بیان تک کہ میں ایک ایسے علاقہ میں پہنچا جو دامن کوہ کہلانے کا مستحق ہے۔ہاں جس وقت جرمن فوج نے حملہ کیا ہے۔رویا میں مجھے یاد آتا ہے کہ کسی سابق نبی کی کوئی پیشگوئی ہے یا خود میری کوئی پیشگوئی ہے اس میں اس واقعہ کی خبر پہلے سے دی گئی تھی اور تمام نقشہ بھی بتایاگیا تھا کہ جب وہ موعود اس مقام سے دوڑے گا تو اس اس طرح دوڑے گا۔اور پھر فلاں جگہ جاتے گا۔چنانچہ رویا میں جہاں میں پہنچا ہوں وہ مقام اس پہلی پیشگوئی کے عین مطابق ہے۔اور مجھے معلوم ہوتا ہے کہ پیشگوئی میں اس امر کا بھی ذکر ہے کہ ایک خاص رستہ ہے جسے میں اختیار کروں گا۔اور اس رستہ کے اختیار کرنے کی وجہ سے دنیا میں بہت اہم تغیرات ہوں گے اور دشمن مجھے گرفتار کرنے میں ناکام رہے گا۔چنانچہ جب میں یہ خیال کرتا ہوں تو اس مقام پر مجھے کئی ایک پک ڈنڈیاں نظر آتی ہیں جن میں سے کوئی کسی طرف جاتی ہے اور کوئی کسی طرف۔میں اُن پک ڈنڈیوں کے بالمقابل دوڑتا چلا گیا ہوں تا معلوم کروں کہ پیشگوئی کے مطابق مجھے کسی راستہ پر جانا چاہیئے۔اور میں اپنے دل میں یہ خیال کرتا ہوں کہ مجھے تو یہ معلوم نہیں کہ میں نے کسی راستہ سے جانا ہے اور میرا کس راستہ سے جانا خدائی پیشگوئی کے مطابق ہے۔ایسا نہ ہو میں غلطی سے کوئی ایسا راستہ اختیار کرلوں جس کا پیشگوئی میں ذکر نہیں۔اس وقت میں اُس سڑک کی طرف جارہا ہوں جو سب کے آخر میں بائیں طرف ہے اس وقت میں دیکھتا ہوں کہ مجھ سے کچھ فاصلہ پر میرا ایک اور ساتھی ہے اور وہ مجھے آواز سے کہ کہتا ہے کہ اس سڑک پر نہیں۔دوسری سڑک پر جاتیں۔اور میں اس کے کہنے پر اس سڑک کی طرف جو بہت دُور ہٹ کر ہے واپس لوٹتا ہوں۔وہ جس سڑک کی طرف مجھے آوازیں دے رہا ہے۔انتہائی دائیں طرف ہے اور نھیں سڑک کو میں نے اختیار کیا تھا وہ انتہائی باتیں