سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 363
۳۶۳ میں نے کبھی اس کی ضرورت نہیں سمجھی۔مخالف کہتے ہیں آپ کے مرید آپ کو مصلح موعود کہتے ہیں مگر آپ خود دعوی نہیں کرتے۔مگر میں کہتا ہوں کہ مجھے دعوی کی ضرورت کیا ہے ؟ اگر میں مصلح موعود ہوں تو میرے دعوی نہ کرنے سے میری پوزیشن میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔جب میرا عقیدہ یہ ہے کہ جو پیشگوئی غیر مامور کے متعلق ہو اس کے لیے دعوی کرنا ضروری نہیں ہوتا تو پھر دعوی کی مجھے کیا ضرورت ہے ؟“ ( الفضل ۲۳ مارچ ۱۹ة ) حضرت مولانا ابو العطا - صاحب کے ایک سوال کے جواب میں واضح اور معین طور پر تحریر فرمایا۔" مکر می مولوی ابو العطار صاحب السلام عليكم ورحمة الله وبركاته - ! آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اول میرے نزدیک مصلح موعود بر حال حضرت مسیح موعود کی موجودہ اولاد میں سے ایک لڑکا ہے نہ کہ آئندہ زمانہ میں آنے والا کوئی فردر دوم: میرے نزدیک جس حد تک میں نے اس پیشگوئی کا مطالعہ کیا ہے اس کی نوے فیصد باتیں میرے زمانہ خلافت کے کاموں سے مطابق ہیں۔سوم: چونکہ میں اس پیشگوئی کے موعود کے لیے دعوی کو شرط قرار نہیں دیتا اس لیے میرے نزدیک میرے لیے دعوی کی ضرورت نہیں۔ہاں میں سمجھتا ہوں کہ اس پیشگوئی کی جو غرض ہے وہ بڑی حد تک میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی ہے لیکن میں اس میں تعجب کی بات نہیں دیکھتا۔اگر میرے بھائیوں میں سے کسی دوسرے کے ذریعہ سے بھی اسی قسم کے کام یا ان سے بڑھ کر کام خدا تعالیٰ کروائے۔خاکسار مرزا محمود احمد ۱۸/۶/۳۷ ایک اہم انکشاف الفضل ۳ جولائی ۹۳) ۹۴۴انہ میں حضور نے ایک مبارک رویا۔دیکھی جس سے بڑی وضاحت سے پتہ چلتا تھا کہ حضور ہی اس عظیم پیش خبری کے مصداق ہیں۔حضور اس سال کے جلسہ سالانہ کی تقریر میں یہ رویا۔بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :-