سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 362
۳۶۲ دعوی مصلح موعود O دین اسلام کی حقانیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وقت کی صداقت قرآن کی عظمت و شان اور خدا تعالیٰ کی سہتی کا ایک روشن نشان - پیشگوئی مصلح موعود۔اور اس پیشگوئی کا علی رغم انت اعدام شاندار طور پر پورا ہونا جلد اول میں بیان ہو چکا ہے۔حضرت مصلح موعود کے دینی کارنامے اور تبلیغ و اشاعت اسلام کے نئے نئے افقی بزبان حال ! اس امر کا ثبوت ہیں کہ حضور ہی اس پیش خبری کا مصداق تھے۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ ان تمام باتوں اور اس بات کے با وجود کہ جماعت کے متعد د صاحب حال بزرگ جیسے حضرت مولانا نورالدین خلیفہ امسیح الاقوال حضرت پیر سراج الحق نعمانی جمالی صاحب حضور کو اس پیشگوئی کا مصداق سمجھتے تھے۔حضور نے احباب جماعت کی خواہش اور درخواست کے با وجود ایک عرصہ تک ایسا کوئی دعوی نہ کیا بلکہ یہ فرماتے رہے کہ اگر میرے ذریعہ سے وہ علامات پوری ہو جائیں جو پیش گوئی میں بیان ہوئی ہیں تو دعوی کی کیا ضرورت ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- " میں مصلح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا اگر میں ہوں تو الحمد للہ ! دعوی سے فائدہ نہیں اگر میں نہیں تو اس احتیاط سے میں ایک غلطی سے محفوظ ہو گیا۔بعض لوگ مجھے وہ موعود سمجھتے ہیں میں ان کو بھی نہیں روکتا۔ہر ایک شخص کا اپنا خیال و تحقیق ہے اور خلاف الفضل ۲ فروری ۹۶لة ) شریعت نہیں اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ حضور کو اس پیشگوئی کے مصداق کے متعلق کوئی شک تھا جیسا کہ آپ نے فرمایا :- سبز اشتہار میں جو مصلح موعود کی پیشگوئی ہے اس میں مجھے کوئی شہر نہیں کہ وہ میرے ہی متعلق ہے۔الفضل ۲۷ فروری له ) تاہم دعوی کے متعلق آپ کا محتاط متوقف یہی تھا کہ : لوگوں نے کوشش بھی کی ہے کہ مجھ سے دعوی کرائیں کہ میں مصلح موعود ہوں مگر 辣