سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 306
ہمیں اپنے بیوی بچوں سے پوچھنا چاہتے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں گے یا نہیں ؟ اگر وہ ہمارے ساتھ قربانی کے لیے تیار نہیں ہیں تو قربانی کی گنجائش بہت کم ہے۔مالی قربانی کی طرح جانی قربانی کا بھی یہی حال ہے۔جسم کو تکلیف پہنچا نا کسی طرح ہو سکتا ہے جب تک اُس کے لیے عادت نہ ڈالی جائے جو مائیں اپنے بچوں کو وقت پر نہیں جگاتیں ، وقت پر پڑھنے کے لیے نہیں بھیجتیں ، ان کے کھانے پینے میں ایسی احتیاط نہیں کرتیں کہ وہ آرام طلب اور عیاش نہ ہو جائیں۔وہ قربانی کیا کر سکتے ہیں۔عادتیں جو بچپن میں پیدا ہو جائیں وہ نہیں چھوٹتیں۔اس میں شک نہیں کہ وہ بہت بڑے ایمان سے دب جاتی ہیں۔مگر جب ایمان میں ذرا بھی کمی آتے پھر عود کر آتی ہیں۔پیس جانی قربانی بھی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک عورتیں اور بچے ہمارے ساتھ متحد نہ ہوں۔جب تک ماتیں متحد نہیں ہوں گی تو وہ روز ایسے کام کریں گی جن سے بچوں میں شکستی اور غفلت پیدا ہو۔پس جب تک مناسب ماحول پیدا نہ ہو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔" الفضل ۲۹ نومبر ۳۳ ) i مطالبات تحریک جدید - پہلا مطالبہ : حضور نے سب سے پہلے جماعت سے اس تحریک کے سلسلہ میں جو مطالبہ فرمایا وہ سادہ زندگی اختیار کرنے کا تھا۔حضور اس امر کی اہمیت و افادیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔۔ہر احمدی جو اس جنگ میں ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہیے یہ اقرار کرے کہ وہ آج سے صرف ایک سالن استعمال کرے گا۔روٹی اور سالن یا چاول اور سالن یہ دو چیزیں نہیں بلکہ دونوں مل کر ایک ہونگے ، لیکن روٹی کے ساتھ دو سالنوں یا چاولوں کے ساتھ دوسالنوں کی اجازت نہ ہوگی۔۔۔۔۔۔سوائے اس صورت کے کہ کوئی دعوت ہو یا مہمان گھر پر آتے۔اس کے احترام کے لیے اگر ایک سے زائد کھانے تیار کئے جائیں تو یہ جائز ہوگا۔مگر مہمان کا قیام لمبا ہو تو اس صورت میں اہل خانہ خود ایک ہی کھانے پر کفایت کرنے کی کوشش کرے یا سوائے اس کے کہ اس شخص کی کہیں دعوت ہو اور صاحب خانہ ایک سے زیادہ کھانوں پر اصرار کرے یا سوائے اس کے کہ اس کے گھر کوئی چیز بطور تحفہ آجائے یا مثلاً ایک وقت کا کھانا تھوڑی مقدار میں بیچ کر دوسرے وقت کے کھانے کے ساتھ استعمال کر لیا جائے۔۔۔۔۔۔مہمان بھی اگر جماعت کا ہو تو اسے بھی چاہیئے کہ میزبان کو مجبور نہ کرے کہ ایک سے زیادہ سالن اس کے ساتھ مل کر کھائے۔ہر احمدی اس بات کا پابند نہیں بلکہ اس کی