سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 302 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 302

اس پر شوکت اعلان کے بعد 4 نومبر لا کے خطبہ جمعہ میں اس جدید کیم کے موید من اللہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا : یہ ساری تکالیف خواہ حکومت کی طرف سے ہوں خواہ رعایا کی طرف سے ایک ی زنجیر کی مختلف کڑیاں ہیں۔اور ہمارا فرض ہے کہ ہم نہایت ہوشیاری سے ان کا مقابلہ کریں اور اسی لیے میں نے اللہ تعالیٰ سے متواتر دُعا کرتے ہوئے اور اسکی طرف سے مبشر رویا حاصل کرتے ہوئے ایک سکیم تیار کی ہے جس کو میں انشاء اللہ آئندہ جمعہ سے بیان کرنا شروع کروں گا۔میں نے ایک دن خاص طور پر دعا کی تو میں نے دیکھا کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب آتے ہیں اور میں قادیان سے باہر پرانی سڑک پر ان سے ملا ہوں۔وہ ملتے ہی پہلے مجھ سے بغل گیر ہو گئے ہیں۔اس کے بعد نہایت جوش سے انہوں نے میرے کندھوں اور سینہ کے اوپر کے حصہ پر بوسے دینے شروع کئے ہیں۔اور نهایت رقت کی حالت ان پر طاری ہے اور وہ بو سے بھی دیتے جاتے ہیں اور یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ میرے آقا ! میرا جسم اور روح آپ پر قربان ہوں۔کیا آپ نے خاص میری ذات سے قربانی چاہی ہے ؟ یا کہا کہ خاص میری ذاتی قربانی چاہی ہے اور میں نے دیکھا کہ ان کے چہرہ پر اخلاص اور رینج دونوں قسم کے جذبات کا اظہار ہو رہا ہے۔میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ اول تو اس میں چوہدری صاحب کے اخلاص کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ کیا ہے کہ انشاء اللہ جس قربانی کا ان سے مطالبہ کیا گیا خواہ کوئی ہی حالات ہوں وہ اس قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔دوسرے یہ کہ ظفر اللہ خان سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی فتح ہے۔اور ذات سے قربانی کی اپیل سے منی نصر الله کی آیت مراد ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے اپیل کی گئی اور وہ آگئی اور سینہ اور کندھوں کو بوسہ دینے سے مراد علم اور یقین کی زیادتی اور طاقت کی زیادتی ہے اور آقا کے لفظ سے یہ مراد ہے کہ فتح و ظفر مومن کے غلام ہوتے ہیں اور اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔اور جسم اور روح کی قربانی سے مراد جسمانی قربانیاں اور دعاؤں کے ذریعہ سے نصرت ہے۔جو اللہ تعالیٰ کے بندوں اور اس کے فرشتوں کی طرف سے ہمیں حاصل ہوں گی۔۔۔۔۔پھر دوسرے دن میں نے دُعا کی تو میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر فضل کریم صاحب آتے ہیں۔۔۔۔۔اور میں نہایت محبت سے اُن سے ملا ہوں اور میں