سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 3
بسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيدِ پیش لفظ الہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے فض عمر فاونڈیشن کو سوانح حضرت فضل عمر عبد سوم احباب جمات کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت نصیب ہو رہی ہے۔الحمد للہ علی ذلك فضل عمر فاونڈیشن کے مقاصد میں حضرت فضل عمر کی سوانح کی تالیف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اس سوانح کی اہمیت کے پیش نظر اس کی تالیف کا کام مسند خلافت پر متمکن ہونے سے قبل حضرت خلیفہ ایسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سر انجام دے رہے تھے۔نہ میں متذکرہ تالیف کا پہلا ایڈیشن حصہ اول کے طور پر شائع ہوا۔حضور نے دوسرا حصہ مرتب فرما کر اس کی کتابت وغیرہ بھی مکمل کروالی تھی جو بعد میں شالہ میں شائع ہوئی۔اس کے بعد مختلف مواقع کی وجہ سے مؤلف کے تقرر میں تاخیر ہو گئی اور بالآخر حضور انور نے مکرم مولانا عبدالباسط صاحب شاہد مربی سلسلہ کا تقرر بطور مولف سوانح حضرت فضل عمر منظور فرمایا۔مکرم مولانا موصوف نے سوانح حضرت فضل عمر جلد سوم کا مسودہ مکمل کر کے دفتر کے سپرد کر دیا۔حضور انور نے اس سلسلہ میں مسودہ کا جائزہ لینے کے لیے مندرجہ احباب پر مشتمل ایک جائزہ کیٹی منقر فرمائی۔حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظهر محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب محترم مولانا نسیم سیفی صاحب چنانچہ پر مستوده ان بزرگوں کی خدمت میں جائزہ کے لیے بھجوایا گیا۔حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر کی لہی بیماری کی وجہ سے اس کام میں کافی تاخیر ہوتی چلی گئی۔درمیان میں محترم شیخ صاحب کی طبیعت کچھ بحال ہوئی تو مستورہ سن کر اس کی ضروری اصلاح بھی فرماتے لیکن اس میں کئی دفعہ کئی کئی ہفتوں کا وقفہ بھی پڑ جاتا۔اس بیماری کے دوران محترم شیخ صاحب کی خدمت میں یہ عرض