سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 287
۲۸۷ کیا میں نے گورنمنٹ سے کوئی خطاب لیا ہے ؟ پھر لوگ عہدہ کو بڑا سمجھتے ہیں اور اس کے لیے خوشامد کرتے ہیں۔کیا میں نے کسی رشتہ دار کو گورنمنٹ کا نو کر کرایا ہے ، پھر لوگ اس لیے خوشامد کرتے ہیں کہ زمین ملے۔کیا میں نے گورنمنٹ سے زمین لی ہے ، پھر لوگ اس لیے خوشامد کرتے ہیں کہ کرسی نشین ہو جائیں۔کیا میں نے کبھی ایسی خواہش کی ہے ؟ یہ تو ذاتی اور خاندانی فوائد کے متعلق ہے۔رہا قومی فائدہ کوئی کہ سکتا ہے کہ ذاتی فائدہ نہیں اُٹھایا تو کیا ہوا قوم کو فائدہ پہنچانے کے لیے گورنمنٹ کی خوشامد کرتے ہو۔میں کہتا ہوں ہماری قوم سے مراد احمدی ہیں مغل نہیں۔کیونکہ جو مغل احمدی نہیں وہ تو ہماری جان کے دشمن ہیں۔احمدی قوم کو گورنمنٹ نے کونسا ایسا انعام دے دیا ہے جو دوسروں کو نہیں دیا۔بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔دوسروں کے فساد کرنے پر گورنمنٹ احمدیوں پر جرمانہ کرنے کے لیے تو تیار ہوگئی۔گورنمنٹ نے اس موقع پر عیسائیوں کو چھوڑ دیا جنہوں نے بھاگ بھاگ کر جانیں بچائیں۔اور کچھ مددنہ کی۔یور پہینوں کو بھی چھوڑ دیار جو اپنی کو ٹھیوں میں بیٹھے رہے۔مگر احمدیوں سے جرمانہ وصول کر لیا۔جنہوں نے فسادیوں سے گالیاں سنیں۔ماریں کھائیں اور نقصان اُٹھاتے اور یہی نہیں کہ فساد سے الگ رہے بلکہ گورنمنٹ کی مدد کرتے رہے اور باوجود اس اقرار کے وصول کر لیا کہ احمدیوں نے اس موقع پر بہت اچھا کام کیا ہے اگر یہی انعام ہے تو کیا اسی کے لیے ہم گورنمنٹ کی خوشامد کرتے ہیں ؟ ( تقریر فرموده ۲۴ اگست - ٹرکیٹ ہند و مسلم اتحاد ) مباہلہ کا چیلنج : ہم پہلے پڑھ چکے ہیں کہ احرار کی سیاست اور لائحہ عمل جھوٹ گھڑنے اور جھوٹ بولنے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام - حضرت خلیفہ ایسے اور آپ کے خاندان کے متعلق ذلیل قسم کے افتراؤں کی اشاعت - مضامین و تقاریر میں سوقیانہ اندازہ اور دُشنام رہی ان کا عام طریق تھا۔حضور ایسے تمام الزامات پر جن کا تعلق آپ یا آپ کے اعزہ و اقارب سے تھا ہمیشہ واذا خاطبهم الجاهلون قالو اسلاما کے مطابق عفو و چشم پوشی سے کام لیتے رہے اور کبھی بھی صبر کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوڑا مگر احرار نے اپنی تقاریر اور بیانات میں جب یہ الزام بھی پھیلا نا شروع کیا کہ احمدی لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے اور مقدسوں کے مقدس کی توہین کرتے اور مکہ و مدینہ کا احترام نہیں کرتے تو یہ ایسا امر تھا جس پر وہ سچا عاشق رسول صبر نہیں کر سکتا تھا آپ