سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 237
۲۳۷ ایم اے۔ایل ایل بی نے صوبہ کشمیر کی۔جناب اللہ رکھا ساغر نے صوبہ جموں کی صاحبزادہ سر عبد القیوم کے بھائی صاحب - صاحبزادہ عبداللطیف نے صوبہ سرحد کی نمائندگی کی۔دراقم الحروف نے اس کانفرنس کی روئیداد کی اخبارات میں رپورٹنگ کا فریضہ ادا کیا۔---- فیصلہ ہوا کہ ایک آل انڈیا کشمیر کمیٹی بنائی جائے تمام شہر کا۔مجلس نے۔۔۔۔۔اقرار کیا کہ وہ بھی اس کمیٹی میں شمولیت اختیار کریں گے بلکہ وہ اسی وقت ممبر بھی بن گئے۔اب مرحلہ اس کمیٹی کے مدار المہام کے انتخاب کا تھا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امام جماعت احمدیہ کے دائیں ہاتھ ایک ہی صوفہ پرڈاکٹر سر محمد اقبال بیٹھے تھے اور دائیں طرف دوسرے صوفہ پر نواب سر ذوالفقار علی تھے۔اور امام جماعت احمدیہ کے بائیں طرف پہلے خواجہ حسن نظامی اور ان کے بعد نواب صاحب آف کنج پورہ تھے۔۔۔۔ڈاکٹر سر محمد اقبال نے تجویز کیا کہ اس کمیٹی کے صدر امام جماعت احمدیہ ہوں۔ان کے وسائل مخلص اور کام کرنے والے کا رکن۔یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ ان سے بہتر ہمارے پاس کوئی آدمی نہیں۔خواجہ حسن نظامی صاحب نے فوراً اس کی تائید کی اور سب طرف سے درست ہے، درست ہے" کی آوازیں آئیں۔اس پر امام جماعت احمدیہ نے فرمایا که مجھے اس تجویز سے ہرگز اتفاق نہیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اور میری جماعت ہر رنگ میں کمیٹی کے ساتھ تعاون کرے گی ، لیکن مجھے صدر منتخب نہ کیا جائے " ڈاکٹر سر محمد اقبال نے امام جماعت احمدیہ کو مخاطب کر کے پنجابی میں فرمایا : حضرت صاحب جب تک آپ اس کام کو اپنے ہاتھ میں صدر کی حیثیت سے نہ لیں گے۔یہ کام نہیں ہو گا۔ان کے بعد خواجہ حسن نظامی صاحب اور دوسرے اراکین نے بھی بڑے زور سے تائید کی اور جب چاروں طرف سے زور پڑا تو کرہا نہ کہ طوعاً امام جماعت احمدیہ نے اس عہدہ کو قبول کیا اور سب حاضرین کی رضا مندی سے مولانا عبدالرحیم صاحب درد ایم۔اسے