سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 212
دوند ۲۱۲ خیال ہے۔اگر بعض کو اٹامک ہم مل گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ وہ کسی سائنس دان کو کسی اور نکتہ کی طرف توجہ دلا دے اور وہ ایسی چیز تیار کرلے جس کے تیار کرنے کے لیے بڑی بڑی لیبارٹریوں کی بھی ضرورت نہ ہو بلکہ ایک شخص گھر میں بیٹھے بیٹھے اس کو تیار کرے اور اس کے ساتھ دنیا پر تباہی لے آئے اور اس طرح وہ اٹامک ہم کا بدلہ لینے لگ جاتے۔تیرہ سوسال پہلے دنیا کو رسول کریم صلی الہ علیہ سلم نے لڑائیوں کے کم کرنے کا ایک راستہ بتایا تھا۔جب تک دنیا اس راستہ پر نہیں چلے گی لڑاتیاں کم نہیں ہونگی۔بلکہ بڑھیں گی امریکہ اور یورپ والے امن نہیں پائیں گے جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کی اس تعلیم کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے۔وہ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق یہ نہ کہیں گے کہ ہمیں ان آگ کی چیزوں کو نا جائز قرار دینا چاہیئے اس وقت تک حقیقی امن ان کو نصیب نہیں ہو گا ؟ الفضل دار اگست ۱۹۴۵ ) اندار و نصیحت : یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے شروع ہونے سے قبل بڑی وضاحت سے اس کی خبر دیتے ہوئے حضور نے بطور اندار و نصیحت فرمایا تھا:۔دُنیا پر ایک ایسا نازک وقت آچکا ہے کہ دُنیا میں عنقریب بہت بڑا تغیر ہونے والا ہے۔تین سال ہوتے میں نے کہا تھا کہ دس سال کے اندر دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہو گا اور ابھی میری اس بات پر صرف تین سال گزرے ہیں کہ اس تغیر کی علامتیں ظاہر ہونی شروع ہو گئی ہیں۔اب اگر دنیا میں لڑائی شروع ہوتی تو یقینا سمجھ لو کہ اس لڑائی کے بعد کی دنیا وہ دنیا نہیں ہوگی جو اب ہے بلکہ بالکل بدلی ہوئی دُنیا ہوگی۔۔۔۔۔ا دنیا کے سامنے ایک ایسی خطرناک تباہی نظر آرہی ہے جو قیامت کا نمونہ ہوگی۔بالکل ممکن ہے وہ بڑے بڑے شہر جن میں تیں تمہیں چالیس چالیس لاکھ کی آبادی ہے۔ایک دن آدمیوں سے بھرے ہوتے ہوں مگر دوسرے دن تمہیں یہ اطلاع ملے کہ اس شہر میں ایک آدمی بھی باقی نہیں رہا سب مار دیتے گئے ہیں۔۔۔۔۔پس مت سمجھو کہ تم محفوظ جگہوں میں ہو اس وقت ایسی زبر دست تباہی کے سامان پیدا ہو چکے ہیں کہ کسی انسان کی زندگی بھی محفوظ نہیں جب انسانی زندگی کے خون کی اس قدر ارزانی ہو رہی ہے اور جب