سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 203
٢٠٣ ایک اور خواب میں نے پچھلے سال دیکھا تھا جس کا دوسرا حصہ اب پورا ہوا ہے میں شملہ میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے مکان پر تھا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک جگہ ہوں اور وہاں ایک بڑا ہاں ہے جس کی سیڑھیاں بھی ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑا ملک ہے مگر نظر ہاں آتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ سیڑھیوں میں سے اٹلی کی فوج لڑتی آرہی ہے اور انگریزی فوج دیتی چلی جارہی ہے یہاں تک کہ اطالوی فوج ہال کے کنارے تک پہنچ گئی۔۔۔۔۔۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ انگریزی فوج اٹلی والوں کو دبانے لگی ہے اور اس نے پھر اپنی سیڑھیوں پر واپس چڑھنا شروع کر دیا ہے جن پر سے وہ اُتری تھی۔اس وقت میں دل میں سمجھتا ہوں کہ دو تین بار اسی طرح ہوا ہے چنانچہ یہ خواب لیبیا میں پورا ہو چکا ہے جہاں پہلے دشمن مصر کی سرحد تک پہنچ گیا تھا مگر انگریزوں نے پھر اسے پیچھے ہٹا دیا پھر دشن نے انگریزوں کو پیچھے ہٹا دیا اوراب پھر انگریزوں نے انکو پیچھے ہٹا دیا ہے اور یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثال کہیں تاریخ میں نہیں ملتی کہ چار دفعہ ایسا ہوا ہو کہ پہلے ایک قوم دوسری کو ایک سرے سے دباتی ہوئی دوسرے سرے تک جا پہنچی ہواور پھر وہ اسے دبا کر اسی سرے تک لے گئی ہو اور ایک مرتبہ پھر وہ اسے دبا کر وہیں پہنچا آتی ہو اور چوتھی دفعہ پھر وہ اُسے دبا کر واپس لے گئی ہو " الفضل ۷ ار جنوری ۱۹۴۲ئه حضور خطبہ جمعہ مورخہار اپریل 12ء میں جنگ کی تباہیوں پر اظہار تاسف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔یہ دن بہت نازک ہیں۔ایسے نازک کہ اس سے زیادہ نازک دن دنیا پر پہلے کبھی نہیں آتے اور پھر ہمارے جیسی سنتی اور کمزور قوم کے لیے تو یہ بہت ہی نازک ہیں ایک جہاز بھی اگر آکریم پھینکے تو ہم تو اس کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے کیا ہم اس پر تھوکیں گے۔موجودہ جنگ کی تباہی و بربادی کا ایک نیا سیلو ہمارے سامنے آیا ہے یعنی بلگریڈ کی بربادی کئی لاکھ کی آبادی کا شہر ۲۴ گھنٹوں کے اندر اندر تباہ ہو گیا اور وہاں سواتے لاشوں اور اینٹوں کے ڈھیروں کے کچھ نظر نہیں آتا۔۔۔۔۔۔اس زمانہ میں انسان کی طاقت مقابلہ کی حیثیت ہی کیا رہ گئی ہے اور جب لاکھوں انسانوں کی آبادیوں والے شہر اس طرح اُٹھ سکتے ہیں تو گاؤں کا ذکر ہی کیا ؟ ایسے ایسے بم ایجاد ہو چکے ہیں جو دودو