سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 202
٢٠٢ کتنی بڑی طاقت تھی مگر جاپان نے یکدم حملہ کر کے اس کے بیڑے کو سخت نقصان پہنچا دیا ہے اور ظاہر ہے کہ جو طاقت امریکہ ایسی بڑی بڑی حکومتوں کو اس طرح نقصان پہنچا سکتی ہے اس کا مقابلہ ہندوستانی کیا کر سکتے ہیں۔اب لڑائی اتنی قریب آگئی ہے کہ پانچ چھ دن میں موٹروں اور ٹینکوں کی لڑائی کلکتہ میں پہنچ سکتی ہے۔ہندوستان کی آبادی بیشک بڑی ہے اوربعض کا نگری یہ کہا کرتے ہیں کہ اگر تمام ہندوستانی پیشاب کریں تو انگر یز ی میں ہر جائی مگر یہ سب باتیں ہیں۔مقابلہ صرف وہ قوم کرسکتی ہے جو ہتھیار رکھتی اور انہیں چلانا جانتی ہو اور دلیر اور بہادر بھی ہو جس قوم اور ملک کی آبادی کا کثیر حصہ بزدل غیر مسلح اور بے ہنر ہو چکا ہو وہ کیا مقابلہ کر سکتی ہے۔ہندوستان میں بہت تھوڑی تو میں ہیں جو لڑ سکتی ہیں۔پنجاب۔صوبہ سرحد اور یوپی کی بعض قومیں ہیں اور سی پی وغیرہ کے لوگ تو سب کشمیری ٹائپ کے ہیں اور لڑائی کے قابل نہیں ہیں کیونکہ ان میں فوجی ملکہ نہیں رہا اور قوموں میں بہادری صرف فوجی ملکہ کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہے۔آج کشمیری بُزدل سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان میں فوجی ملکہ نہیں رہا، لیکن کسی وقت بی قوم اتنی بہادر تھی کہ محمود غزنوی نے ہندوستان پر جتنے حملے کئے ان میں سے صرف دو میں اسے شکست ہوئی اور یہ دونوں وہی تھے جو کشمیر پر کئے گئے۔اپنے بعض رویا۔بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : مجھے رویانہ میں دکھایا گیا کہ مارشل پٹیان کی حکومت بعض ایسی حرکات کر رہی ہے جن سے انگریزوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور مجھے تشویش پیدا ہوتی ہے کہ انگری بزرکس طرح مقابلہ کریں گے ان کی تو فرانس کے ساتھ صلح ہے اور ان کے راستہ میں یہ روک ہے کہ اگر اس سے لڑیں تو دنیا کے گی کہ اپنے اتحادی سے لڑرہے ہیں اتنے میں آواز آئی کہ یہ ایک سال کی بات ہے۔اصل بات یہ تھی کہ پہلے چونکہ فرانس کے ساتھ انگریزوں کی دوستی تھی اس لیے وہ پیرانی دوستی کی وجہ سے اس پر حملہ نہ کر سکتے تھے یہ بات نہ تھی کہ فرانس کی طاقت جرمنی سے بھی زیادہ تھی اور انگریز اس سے ڈرتے تھے بلکہ وہ اس وجہ سے اس کا مقابلہ نہ کرنا چاہتے تھے کہ دنیا کہے گی کہ اپنے پرانے دوست پر حملہ کر دیا جب تک کہ ایسے حالات پیدا نہ ہو جاتے کہ ان کے لیے اس کا مقابلہ جائزہ کہلا سکتا وہ اس کے ساتھ تصادم نہ چاہتے تھے آخر عین سال گذرنے پر عراق کی بغاوت نے وہ حالات پیدا کر دیئے "