سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 192 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 192

۱۹۲ ہنگامی حالات میں اظہار کر سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔حقیقت یہی ہے کہ خدا کے بندے خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور حق بات کہنے سے انہیں دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔جنگ کے حالات پر حقیقت افروز تبصرہ : جنگ کی تباہی و ہونا کی بڑھتی جارہی تھی موت کا حبیب دیو اپنا جبڑا پھیلاتے آبادیوں کی آبادیاں نگلتا جارہا تھا۔خونریزی اتنی وسیع ہو گئی تھی کہ خود جنگ کی ابتداء کرنے والوں کو بھی اس کا اندازہ نہ تھا کہ وہ دنیا کو کسی تباہی کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں حضور جنگ کے ان حالات کے متعلق ۱۴ جون شانہ کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :- "جنگ کے حالات زیادہ سے زیادہ خطرناک ہوتے جا رہے ہیں اور اب تو ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ قریب ہے ہندوستان بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے۔۱۹۳۸ء کی مجلس شوری کے موقعہ پر میں نے ذکر کیا تھا کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ ہم ایک کشتی میں بیٹھے ہیں جو سمندر میں ہے اور سمندر بہت وسیع ہے۔اس کے ایک طرف اٹلی کی مملکت ہے اور دوسری طرف انگریزوں کی۔اٹلی کی مملکت شمال مغربی طرف معلوم ہوتی ہے اور انگریزی علاقہ مشرق کی طرف اور جنوب کی طرف ہٹ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ کشتی اس جانب سے آرہی ہے جس طرف اٹلی کی حکومت ہے اور اس طرف جارہی ہے جس طرف انگریزوں کی حکومت ہے۔اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ یکدم شور اٹھا اور گولہ باری کی آواز آنے لگی اور اتنی کثرت اور شدت سے گولہ باری ہوئی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا ایک گوٹے اور دوسرے گولے کے چلنے میں کوئی فرق نہیں ہے اور یکساں شور ہو رہا ہے۔میں نے دیکھا کہ گولے متواتر پڑ رہے تھے اور اتنی کثرت سے پڑ رہے تھے کہ یوں معلوم ہوتا کہ ان گولوں سے جو بھرا ہوا ہے۔یہ ایک لمبا رویا ہے جو شائع شدہ ہے۔اس سے اور بعض اور خوابوں سے جو میں نے دیکھی ہوئی ہیں ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا پر ایک خطرناک مصیبت کا وقت آگیا ہے مگر ان خوابوں کا عام ذکر میں مناسب نہیں سمجھتا کیونکہ اللی علم قبل از وقت ہوتا ہے اور لوگ ان باتوں کو سُن کر یہ خیال کر لیتے ہیں کہ ہمارے متعلق تخویف سے کام لیا جا رہا ہے اور بلا وجہ ڈرایا اور خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔موجودہ جنگ کے متعلق گذشتہ نو ماہ میں له الفضل ۲۶ - جولائی ۹۳