سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 154
۱۵۴ لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کے خدائی اصول کے مطابق اس بحر بے کراں کے حقیقی خواص صاحب ماں اولیا۔اللہ ہی ہو سکتے ہیں۔بے عنایات خدا کا راست خام پخته داند این سخن را والسّلام (مسیح موعود ) حضرت مصلح موعود خدا تعالیٰ کی ان عنایات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- " اب میں ان مآخذ کا ذکر کرتا ہوں جن سے مجھے نفع ہوا اور سب سے پہلے اس انزلی ابدی ماخذ علوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس سے سب علوم نکلتے ہیں اور جس کے با ہر کوئی علم نہیں وہ عظیم وہ نور ہی سب علم بخشتا ہے اس نے اپنے فضل سے مجھے قرآن کریم کی سمجھے دی اور بہت سے علوم مجھ پر کھولے اور کھولتا رہتا ہے، جو کچھ ان نوٹوں میں لکھا گیا ہے ان علوم میں سے ایک حصہ ہے۔سُبحَانَ اللهِ وَالحَمدُ لِلَّهِ وَلَا حَولَ وَلَا قوة الا بالله دوسرا ماخذ قرآنی علوم کا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔آپ پر قرآن نازل ہوا۔آپ نے قرآن کو اپنے نفس پر وار د کیا حتی کہ آپ قرآن مجسم ہو گئے۔آپ کی ہر حرکت اور آپ کا سکون قرآن کی تفسیر تھے۔آپ کا ہر خیال اور ہر ارادہ قرآن کی تفسیر تھا۔آپ کا ہرا حساس اور ہر ہر جذ بہ قرآن کی تفسیر تھا۔آپ کی آنکھوں کی چمک میں قرآنی نور کی بجلیاں تھیں اور آپ کے کلمات قرآن کے باغ کے پھول ہوتے تھے۔ہم نے اس سے مانگا اور اس نے دیا۔اس کے احسان کے آگے ہماری گرد میں خم ہیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ محمدٍ وَبَارَكَ وَسَلَمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ تَجِيد۔پھر اس زمانہ کے لیے علوم قرآنیہ کا ماخذ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود اور مہدی : مسعود کی ذات علیہ الصلوۃ والسلام ہے جس نے قرآن کے بلند و بالا درخت کے گرد جھوٹی روایات کی آکاس بیل کو کاٹ کر پھینکا اور خدا سے مدد پاکر اس جنتی درخت کو سینچا اور پھر سر سبز و شاداب ہونے کا موقعہ دیا۔الحمدللہ ہم نے اس کی رونق کو دوبارہ دیکھا اور اس کے پھل کھاتے اور اس کے ساتے کے نیچے بیٹھے۔مبارک وہ جو قرآنی باغ کا با غبان بنا۔مبارک وہ جس نے اسے پھر سے زندہ کیا اور اس کی خوبیوں کو ظاہر کیا۔مبارک وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا اور خدا تعالیٰ کی طرف چلا گیا۔اس کا نام زندہ ہے اور