سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 15
طرح اور بہت سی کتب اُن کی زیر نظر آجائیں گی۔اور انہیں اپنی ذات میں بہت بڑا علمی فائدہ حاصل ہوگا۔دوسرا فائدہ جماعت کو اس قسم کی انجمنوں سے یہ پہنچے گا کہ اُسے کئی نئے مصنف اور مؤلف مل جائیں گے۔تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ نو جوانوں میں اعتماد نفس پیدا ہو گا اور انہیں یہ خیال آئے گا کہ ہم بھی کسی کام کے اہل ہیں۔اب اگر میں بڑے آدمیوں کو بھی انہیں اپنے اندر شامل کرنے کی اجازت دے دیتا تو یہ سارے فوائد جاتے رہتے۔۔۔۔۔۔میں چاہتا ہوں کہ باہر کی جماعتیں بھی اپنی اپنی جگہ خدام الاحمدیہ نام کی مجالس قائم کریں۔یہ ایسا ہی نام ہے جیسے " لجنہ اماء الله لجنہ امام اللہ کے معنے ہیں اللہ کی لونڈیاں اور خدام الاحمدیہ سے مراد بھی یہی ہے کہ احمد تیت کے خادم۔یہ نام انہیں یہ بات بھی ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا کہ وہ خادم ہیں مخدوم نہیں ؟ د الفضل ۱۰ را پریل شاه مجلس کے قیام کی غرض وغایت جاننے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مصلح موعود کی رہنمائی سے استفادہ کیا جائے کیونکہ میں طرح ایک مادر مهربان اپنے شیر خوار بچے کی دیکھ بھال کرتی ہے۔اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر حضور کی توجہ اور رہنمائی اس مجلس کے شامل حال رہی۔حضور کے بعض ارشادات ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں۔" میں نے جو خدام الاحمدیہ نام کی ایک مجلس قائم کی ہے اس کے ذریعہ اسی روح کو میں نے جماعت میں قائم کرنا چاہا ہے اور اس کے ہر رکن کا یہ فرض قرار دیا ہے کہ وہ اپنی قوتوں کو ایسے رنگ میں استعمال کرے کہ اپنے فوائد کو وہ بالکل بھلا دے اور دوسروں کو نفع پہنچانا اپنا منتہی قرار دیدے۔چنانچہ جہاں جہاں بھی اس کے ماتحت کام کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔اور خود انہوں نے بھی اپنی روحانیت میں بہت بڑا فرق محسوس کیا ہو گا۔کیونکہ جب کوئی شخص ایک منٹ کے لیے بھی اپنے فوائد کو نظر اندازہ کر کے دوسرے کو فائدہ پہنچانے کے خیال سے کوئی کام کرتا ہے اس ایک منٹ کے لیے وہ خدا تعالیٰ کا مظہر بن جاتا ہے۔کیونکہ خدا ہی ہے جو اپنے فائدہ کے لیے کوئی کام نہیں کرتا بلکہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تمام کام کرتا ہے۔) الفضل۔ارجون شلة ) قوموں کی کامیابی کے لیے کسی ایک نس کی دوستی کافی نہیں ہوتی۔جو پروگرام بہت ہے