سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 129 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 129

دوند ۱۲۹ وہ اس قسم کے نشان کی مثال بھی پیش کر سکتے ہیں۔کیا کسی مخالف مولوی اور پیر نے ۲۰ سال پہلے کسی نوجوان کے متعلق ایسی خبر دی اور ہمیں سال تک وہ خبر پوری ہوتی رہی اور کیا کسی ایسے مولوی اور پیر کی خدمات کا موقعہ خدا تعالیٰ نے کسی ایسے شخص کو دی جو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی پوزیشن رکھتا تھا۔اللہ تعالیٰ ان کی خدمت کو بغیر معاوضہ کے نہیں چھوڑے گا " الفضل ۲۹ متى شلة ) حضور نے نیکم جولائی شعلہ کو ہیگ (ہالینڈ) میں جو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔اس میں آپ فرماتے ہیں :۔" برادران ! کل صبح میں آپ کے ملک سے جارہا ہوں اور طبعی طور پر یہ جدائی مجھے شاق گزر رہی ہے افسوس ہے کہ میں یہاں ایسے وقت میں آیا جبکہ میں بیمار تھا اور اس بیماری کی وجہ سے میری نظر کان اور قوت یاد داشت کافی حد تک اثر پذیر ہیں۔اس لیے میں احباب کے چہروں اور ان کے ناموں کو بہت جلد بھول جاتا ہوں مجھے ڈر ہے کہ میرے بھائی یہ محسوس نہ کریں کہ میں ان کی طرف توجہ نہیں کرتا حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔واقعہ یہ ہے کہ میں بعض اوقات ان کے چہروں کو بھول جاتا ہوں اور دوسروں سے پوچھتا ہوں کہ وہ صاحب کون ہیں لیس یہ بات صرف میری بیماری کی وجہ سے ہے عدم توجہ کی وجہ سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔میں یہاں تھوڑے عرصہ کے لیے آیا تھا اور جلد ہی آپ لوگوں سے رخصت ہو رہا ہوں اور موجودہ حالات میں میں یہ خیال نہیں کر سکتا کہ دوبارہ جلد آپ کے پاس آسکوں گا۔۔۔۔۔۔جب میں نوجوانی کو پہنچا تو اس وقت میں نے اپنا ایک اخبار" الفضل" نامی جاری کیا تھا، بلکہ اس سے بھی پہلے جب میں صرف چودہ سال کی عمر کا تھا تو میں نے ایک ماہوار رسالہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے نکالا اور پہلا مضمون جو میں نے اس میں لکھا اس کا مضمون یہ تھا کہ تم یہ نہ دیکھو کہ اس وقت کتنے احمدی ہیں بلکہ تم قدرت کے کام کی طرف دیکھو تم دیکھتے ہو کہ یہ بڑے بڑے جنگلات جو سینکڑوں میں میں پھیلے ہوتے ہیں یہ صرف چھوٹے سے بیج سے شروع ہوئے ہیں۔اسی طرح ایک چھوٹا سا بیج اس زمین میں بویا گیا اور اس نے اس زمین میں جڑیں پکڑ لی ہیں۔اب اس سے ایک عظیم الشان درخت پیدا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اب تم اس زمانے پر جس وقت میں نے بیمضمون لکھا نظر ڈالو اور