سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 4

سے کامیابی کے ساتھ نبرد آزما ہونے کا رُوحانی طریق بھی سکھا دیا گیا تھا۔اس رڈیا کا ذکرہ کرتے ہوئے جو نہ میں اپنے قیام شملہ کے دوران آپ نے دیکھا آپ فرماتے ہیں۔" میں نے دیکھا کہ کوئی بہت بڑا اور اہم کام میرے سپرد کیا گیا ہے ++ اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ میرے رستہ میں مشکلات کے پہاڑ ہیں۔میں ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی پر جانا چاہتا ہوں ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ تمھیں پتہ ہے اس کام کی تکمیل کے راستہ میں بہت سی رکاوٹیں ہیں تے یہ راستہ بڑا خطرناک ہے۔اس میں بڑے مصائب اور ڈراؤ نظارے ہیں ایسا نہ ہو تم ان سے متاثر ہو جاؤ اور منزل پر پہنچنے سے رہ جاؤ اور پھر کہا کہ میں تمھیں ایسا طریق بتاؤں جس سے تم محفوظ رہو۔میں نے کہا ہاں بتاؤ۔اس پر اس نے کہا کہ بہت سے بھیانک نظارے ہوں گے مگر تم ادھر اُدھر نہ دیکھنا اور نہ ان کی طرف متوجہ ہونا۔خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کہتے ہوئے سیدن چلے جانا۔اُن کی غرض یہ ہوگی کہ تم ان کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔اگر تم ان کی طرف متوجہ ہو گئے تو اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہ جاؤ گے۔اس لئے اپنے کام میں لگ جاؤ۔چنانچہ میں جب چلا تو میں نے دیکھا کہ نہایت اندھیرا اور گھنا جنگل تھا۔اور ڈر اور خون کے بہت سے سامان جمع تھے۔اور جنگل بالکل سنسان تھا۔جب میں ایک خاص مقام پر پہنچا ہو بہت ہی بھیانک تھا تو بعض لوگ آئے اور مجھے تنگ کرنا شروع کیا تب مجھے معا خیال آیا کہ فرشتہ نے مجھے کہا تھا کہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ " کہتے چلے جانا۔اس پر میں نے ذرا بلند آوازہ سے یہ فقرہ کہنا شروع کیا اور وہ لوگ چلے گئے۔اس کے بعد پھر پہلے سے بھی زیادہ خطرناک راستہ آیا