سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 84

چاہی وہ اس وقت جوش میں تھے۔لہذا ابو بکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضر ہوئے اور آکر یہ شکایت نہیں کی کہ عمران نے مجھ سے لڑائی کی یا مجھے دُکھ دیا۔بلکہ یہ کہ عمر مجھے معاف نہیں کرتا۔حضرت عمر بھی آگئے اور معذرت کی۔دیکھو یہ تھے خیرالقرون کے یتھیں بھی ایسا ہی بنتا چاہیے کہ اگر کبھی بتقاضائے بشریت جھگڑا ہو جائے تو فوراً صلح کرلو اور دل میں کینہ نہ بٹھا چھوڑو الفضل در ستمبر ۱۹۱ئه مهتام بیماری کے باوجود اس سفر کے دوران آپ کو اہم جماعتی امور کی طرف توجہ دینے کا وقت بھی میسر آتا رہا۔جماعت کے کاموں کی جو لگن آپ کے دل میں تھی۔وہ دست با کار اور دل بایار کا منظر پیش کرتی ہے۔صحت کی بحالی کے لئے تشریف لے جاتے ہیں لیکن جماعتی غم اور شکر مسلسل جان کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔آپ نے شملہ سے احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے بذریعہ اشتہار ایک اہم پیغام دیا جس کا مندرجہ ذیل اقتباس میرے مافی الضمیر کو مزید واضح کرنے میں محمد ثابت ہوگا:۔میں نے احباب سے جلسہ سالانہ کے موقع پر کہا تھا کہ ان انجمنوں کی مالی حالت کی کمزوری میری صحت اور میرے کام پر بد اثر ڈالتی ہے کیونکہ جس شخص کے کانوں میں ہر وقت یہ آواز آدے کہ اس سلسلہ کے کاموں کے چلانے کے لئے جس کا امر خدا تعالے نے اس کے سپرد کیا ہے روپیہ کی سخت تنگی ہے اور ہر ایک کام سخت خطرہ کی حالت میں ہے وہ کب تندرست رہ سکتا ہے اور کب وہ ان زیادہ ضروری کاموں کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے جو جماعت کی حقیقی ترقی سے متعلق ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خلفاء پر صرف مالی انتظام کا ہی بوجھہ نہیں۔اور امور بھی ان کی طبیعت پر بوجھ ڈالنے کا باعث ہوتے ہیں مگر اس وقت جبکہ روپیہ پر بہت سے کاموں کا دار ومدار ہے جماعت کی رُوحانی ترقی کے خیال کے بعد یہ بوجھ بھی ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔پس میں اس اشتہار کے