سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 80

خیالات اور رحجانات کا مطالعہ کرتے ہیں آج بھی ہماری محمد ہے۔نظر نہایت باریک اور حکیمانہ تھی۔انداز گفتگو سادہ اور دلنشین - نصیحت نہایت دلربا انداز رکھتی تھی۔ایسی جو دل کی گہرائیوں میں اُتر جائے۔دوران گفتگو بعض ضمنی اعترافا کا بھی نہایت عمدہ ترانہ میں جواب دیتے چلے جاتے تھے۔یہی انداز آخر تک قائم رہا۔جماعت کو اس اہم نقطہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ خدا کا کوئی حکم بھی چھوٹا نہیں ہوتا آپ نے فرمایا :- یہ خوب یاد رکھو کہ اللہ کا کوئی حکم نہ تو بوجھل ہے نہ چھوٹا۔5 لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ۔ذکر کے معنے عمل کے بھی ہوتے ہیں۔یعنی ہم نے قرآن کو عمل کے لئے آسان کر دیا ہے۔پیارے کی ہر چیز پیاری ہوتی ہے اور بڑے کی ہر چیز بڑی۔پس خدا کے کسی حکم کو چھوٹا نہ سمجھو البتہ چھوٹا یوں ہو سکتا ہے کہ اس کی سزا کم رکھی ہے۔ورنہ یوں تو خدا کی ہر ایک نا فرمانی بڑی بات ہے۔میں تو کفر کا مسئلہ بھی اسی طرح حل کیا کرتا ہوں کہ نبی کا اس کے بذاتہ کفر نہیں۔وہ تو ہمارے جیسا ہی ایک انسان ہوتا ہے۔بلکہ اس وحی کا انکار کفر ہے جو اس پر نازل ہوتی ہے " اطاعت امیر جماعت قادیان کو دوسری جماعتوں کے لئے نمونہ بننے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا :- یکیں یہاں کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ خلافت اور امارت ہیں فرق ہے۔خلیفہ کے ساتھ مذہبی تعلقات (سبعیت بھی ہوتے ہیں اس لئے خلفاء کی تو مان لیتے ہیں اور اپنے امیروں کی نہیں مانتے یا اس کے لئے شرح صدر نہیں پاتے۔یہی وجہ ہے کہ میں تاکید کرتا ہوں اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں کہتا ہوں جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور میں نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی یہ