سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 78

LA جانے سے پہلے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی میں آپ ایک امیر مقرر فرمایا کرتے تھے اور ایک امام الصلوۃ - امیر کو مقامی امور میں اسی طرح واجب الاطاعت قرار دیتے تھے جس طرح خود آپ کی اطاعت مبائین پر فرض تھی۔بعض اوقات کبھی سفر سے پہلے خطبہ جمعہ میں یا کسی تقریب کے موقعہ پر وقتی تقاضوں کے مطابق نصائح فرمایا کرتے لیے سفروں سے پہلے عمو با حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے مزار مقدس پر دعا کے لئے جاتے۔روانگی سے قبل اجتماعی دعا ہوتی اور کچھ صدقہ بھی دیا جاتا۔آئندہ کے سفروں کی روئداد بیان کرتے وقت ہمیں یہ باتیں دہرانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ ہر سفر میں آپ کایی معمول رہا۔سفر کے ساتھیوں کا انتخاب بھی دلچسپ مطالعہ کا مواد پیش کرتا ہے۔اہل خانہ کے علاوہ آپ بسا اوقات بھائیوں، بہنوں، بھتیجوں ، بھانجوں وغیرہ میں سے بعض کو ساتھ لے جاتے تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی شفقت کا دائرہ محض آپ کے اہل و عیال تک محدود نہ تھا بلکہ دیگر اقرباء کو بھی آپ اکثر اپنی محبت و شفقت سے نوازتے رہتے تھے۔علاوہ ازیں غالباً ایک مقصد یہ بھی تھا کہ سفر کے موقع پر چونکہ بے تکلفی کے ماحول میں باہم ملنے کے مواقع زیادہ میسر آتے ہیں اس لئے دیگر اہل خاندان کو بھی آپ کی صحبت اور تربیت کا موقع میتر آتا رہے۔اہل قافلہ کے انتخاب کے وقت آپ سلسلہ کے بعض نئے اور میرا نے خدام اور بزرگان کی اولاد کو بھی پیش نظر رکھ لیا کرتے تھے اور کبھی اپنے ازواج کے رشتے داروں کو بھی شامل کر لیا کرتے تھے اسی طرح کبھی ایسے بزرگان سلسلہ کو بھی ساتھ لے جاتے جن میں خود سفر کی استطاعت نہ ہوتی لیکن ان کی صحت متقاضی ہوتی کہ انہیں کچھ آرام میسر آئے۔اور تبدیلی آب و ہوا ہو جائے۔مندرجہ بالا طریق انتخاب بھی ہمیشہ آخر عمر تک تبدیل ہوئے بغیر قائم رہا۔زیر نظر سفر میں آپ نے اہل خانہ کے علاوہ حسب ذیل ساتھیوں کا انتخاب فرمایا۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب (برادر خورد) (۲) صاحبزادہ میاں عبدالسلام صاحب عمر دربرادر نسبتی وخلف الرشید حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ) (۳) حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب نیتر رم حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی (نومسلم)