سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 63
طور پر کامیاب بنایا۔عدو نے چاہا کہ قادیان کی رونق کو کم کرے اور خلافت محمود کی عظمت کو نقصان پہنچائے۔لیکن خدا نے چاہا کہ اس کے منصوبوں کو پیوند خاک کرے اور خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے الفاظ خلیفہ خدا بناتا ہے اپنے جلال کے ساتھ پورے ہوں چنانچہ زمینی اسباب پر بھروسہ رکھنے والوں نے دیکھ لیا کہ ان کی مخالفانہ کوششیں کچھ کام نہ آئیں اور با وجود ایام جلسہ کی زیادتی اور قادیان کے سفر کی صعوبت کے رُوئے احمد پہ قربان ہونے والے زائرین پروانہ وار دیار جیب میں پہنچے غرض خدا تعالے نے اپنے ہاتھ سے سب کام کر کے دکھا دیا اور بتا دیا کہ خلیفہ ہم بنایا کرتے ہیں۔اس سال کا جلسہ سالانہ اپنی خصوصیات کے لحاظ سے قابل ممبارک اور اپنی شان کے لحاظ سے اپنی نظیر آپ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب سے بڑی خصوصیت اب کی مرتبہ یہ تھی کہ قادیان میں آنے والے وہ مخلصین تھے۔جو دامن محمود سے وابستہ ہو کر یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا جلسہ محض میں ملاقات نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اور ہم قادیان میں ایک مزکی نفس کی پاک صحبت سے مستفیض ہونے اور اس کی دعاؤں سے حصہ لینے کے لئے آئے ہیں۔جلسہ پر آنے والے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے شن لیا کہ انہوں نے جس ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے وہ ایک معمولی انسان کا ہاتھ نہیں بلکہ اسس اولوالعزم انسان کا ہاتھ ہے جو سیح کے ہاتھوں میں پلا ہوا اور نور الدین کے ہاتھوں میں تربیت پایا ہوا اور خود خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے کھڑا کیا ہوا ہے۔اور پھر انہوں نے یہ بھی ملاحظہ کر لیا کہ ان کا خلیفہ اگر چہ کسی قابلیت اور کسی علم کا تدعی نہیں تاہم خدا نے اُسے وہ کچھ سکھایا ہے جس کا علم فرشتوں کو بھی نہ تھا اور وہ طرز بیان و فہم قرآن بخشا ہے جو خاصان خدا کا