سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 61 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 61

41 ہیں ان کے مقابلہ میں تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ کی کیا شکل ہے۔آیا بھوپال والا خدا تو نہیں ہے یا اس کے قریب قریب ہے مگر خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب بدصورتیوں ساری بدیوں اور تمام برائیوں سے پاک اور منزہ ہے - (۱۰۸) ای سال آپ کے ہاتھ سے جماعت احمدیہ کے لئے بہت سی اہم حمات سر ہوئیں کیا بلحاظ فوری ضرورت کے اور کیا بلحاظ لمبی اور دور رس منصوبہ بندی کے۔آپ نے جماعت کے تمام اہم مسائل کی طرف نہایت ہی حکیمانہ توجہ فرمائی اور غیر معمولی قوت کے ساتھ جماعت کو خدمت دین کی راہ پر گامزن فرما دیا۔آپ کی مجلس مشاورت کی تقریر جس کا پہلے ذکر گذر چکا ہے اور جلسہ سالانہ کی یہ تقاریر جن کا ابھی ذکر گزرا ہے جماعت کے ہر طبقے اور ہر عمر کے لوگوں میں نہایت گہرے رنگ میں اثر انداز ہوئیں اور جماعت نے قرآن کریم میں بیان کردہ عروۃ الوثقی کو نہایت مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیا۔ان تقاریر کے اثر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جماعت کے وہ بزرگان جو اس زمانہ میں نو عمر تھے آج تک ان تقاریر کی انقلابی تاثیرات کو نہیں بھولے۔چند ماہ قبل مکرم محترم پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اسے (کینٹب ) (جو پاکستان کے علمی حلقوں میں ایک بہت معروف سی ہیں) کی خدمت میں میں نے اپنے ایک نمائندہ کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے بارہ میں تاثرات قلمبند کروانے کے لئے بھیجوایا تھا تو انہوں نے از خود ہی ان دونوں مواقع پر کی جانے والی تقریروں کے اثر کا ذکر چھیڑ دیا اور فرمایا :- حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ابتدائی تقاریر جو مجلس شورتی اور پہلے سال کے جلسہ سالانہ پر کی گئیں بڑی عظیم الشان اور انقلاب انگیز تھیں۔میرے بھائی قاضی عبد الحمید صاحب ان دنوں نوجوان طالب علم تھے اور ہم سب میں آزاد خیال سمجھے جاتے تھے۔لیکن جب انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی یہ تقریریں سنیں تو اتنا گہرا اثر قبول کیا کہ گویا ان کے اندر ایک روحانی انقلاب پیدا ہو گیا اور وہ ہمیشہ ان کے اثر کا ذکر خود کیا کرتے تھے۔یہ قاضی عبدالحمید صاحب وہی ہیں جن کے دل میں اللہ تعالی