سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 1

عهد خلافت ثانیه ار مارچ بروز ہفتہ بعد نماز عصر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد اللہ تعالے کی مشیت کے مطابق مخلصین جماعت احمدیہ کی دردمندانہ دعاؤں کے ساتھ مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السّلام کی پر درد اور مقبول دعاؤں کا ثمرہ تھے۔آپ کا وجود قبولیت دعا کا ایک زندہ اور محبتم نشان تھا۔دُعاؤں کے ساتھے آپ کو ایک عجیب نسبت تھی۔دُعاؤں نے ہی آپ کو خلعت وجود بخشا۔دعائیں ہی آپ کے سرمایہ حیات رہیں۔دُعاؤں کی لوریاں سنتے ہوئے آپ کا بچپن گزرا۔گنگناتی ہوئی دعائیں آپ کو ٹھیک ٹھیک کر سلایا کرتی تھیں اور دُعاؤں کی نرم و ملائم آواز ہی آپ کو خواب راحت سے بیدار کرتی تھی۔آپ کی تعلیم دعاؤں کے ساتھ ہوئی۔آپ بیمار ہوئے تو دعاؤں اچھے ہوئے۔آپ کمزور ہوئے تو دعاؤں نے آپ کو توانائی بخشی۔زندگی کے ہر گز سے ہوئے دور نے دعاؤں کے ساتھ آپ کو الوداع کی۔زندگی کے ہر آنیوالے دور نے دعاؤں کے ساتھ آپ کا استقبال کیا۔ہر دروازہ جو آپ پر کھلا دعاؤں کے ساتھ کھلا۔اور ہر باب جو آپ پر بند ہوا دُعاؤں کے ساتھ بند ہوا۔حضرت خلیفہ ایسی اول کی ایک تن تاثیر ما آئیے ہم کچھ دیر کے لئے حضرت خلیفہ المسیح الاول کے دور خلافت کے آخرمی ایام کی طرف ایک مرتبہ پھر نظر دوڑائیں۔یہ ان ایام کا ذکر ہے جب حضرت خلیفہ ایسے الاول بیمار تھے۔اور بسا اوقات بیماری اتنی شدت اختیار کر جاتی تھی کہ بھنیا دو بھر