سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 52
لائے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو چونکہ خدا تعالیٰ نے دونوں چیریں یعنی روحانی اور جسمانی حکومتیں دی تھیں اس لئے ان کے خلیفہ سکتے پاس بھی دونوں چیزیں تھیں۔لیکن اب جبکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حکومت نہیں دی تو اس کا خلیفہ کس سے لیتا پھرے کہ مجھے حکومت دو۔ایسا اعتراض کرنے والے لوگوں نے علیفہ کے لفظ پر غور نہیں کیا " میں ایک دفعہ قسم کھا چکا ہوں اور پھر اسی ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے اور جو اس گھر (مسجد) کا مالک ہے اور میں اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں جو آسمان اور زمین کا حاکم ہے جس کی جھوٹی قسم لعنت کا باعث ہوتی ہے۔اور جس کی لعنت سے کوئی جھوٹا بچ نہیں سکتا کہ میں نے کسی آدمی کو کبھی نہیں کہا کہ مجھے خلیفہ بنانے کے لئے کوشش کرو۔اور نہ ہی کبھی خدا تعالیٰ کو میں نے یہ کہا ہے کہ مجھے خلیفہ بنائیں۔پس جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس کام کے لئے خود اپنے فضل سے چن لیا ہے تو میں کس طرح اسے ناپسند کرتا ؟ کیا اگر تمہارا کوئی دوست تمھیں کوئی نعمت ہے اور تم اس کو لے کر نالی میں پھینک دو تو تمہارا دوست خوش ہوگا ؟ اور تمہاری یہ حرکت درست ہوگی ؟ ہرگز نہیں۔تو اگر خدا تعالیٰ نعمت دے تو کون ہے تو اس کو مٹا سکے۔جب دنیا کے دوستوں کی نعمتوں کو کوئی رو نہیں کرتا بلکہ بڑی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو میں خدا تعالیٰ کی دی ہوئی اس نعمت کو کس طرح رو کر دوں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو رد کرنے والوں کے بڑے خطرناک انجام ہوتے رہے ہیں۔مراد پس اگر مجھے خلیفہ ماننے والے بھی سب کے سب نہ ماننے والے ہو جاتے اور کوئی بھی نہ مانتا اور ساری دنیا میری دشمن اور جان کی پیاسی ہو جاتی جو کہ زیادہ سے زیادہ یہی کرتی کہ میری جان نکال