سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 44 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 44

بعض دیگر علمی کاوشیں لٹریچر کم بهم الہ کی تاریخی مجلس مشاورت کے اہم فیصلوں میں یہ امر بھی شامل تھا کہ سلسلہ کے غیر کو اُردو کے علاوہ دنیا کی دوسری زبانوں خصوصا عربی اور انگریزی میں ترجمہ کر کے شائع کیا جائے۔چنانچہ اس فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے خود حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بلاد اسلامیہ تک مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچانے کے لئے الدین الحی " کے نام سے عربی زبان میں ایک ٹیکیٹ لکھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی ایک ایسی پیشگوئی کا ذکر کیا گیا جو ان دنوں بڑی شان سے پوری ہوئی تھی۔اس کے علاوہ اہل بنگال کو مخاطب کرتے ہوئے ایک رسالہ تحریر فرمایا جس کا بنگالی میں ترجمہ کروا کر جولائی سولہ میں کلکتہ سے شائع کیا گیا۔1917ء کے نہایت مصروف سال میں آپ نے والی بھوپال کے نام بھی ایک تبلیغی خط تحریر فرمایا اور خلیفہ المسلمین ترکی کو بھی مخاطب کرتے ہوئے انتباہ کیا کہ ترکی کا جنگ عظیم میں جرمنی کی طرف سے شامل ہو جانا غیر مناسب اور بے سود ہے اور ترکی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ پیشگوئی یاد دلائی جس میں ترکی کی نام نهاد خلافت کی زبوں حالی کا ذکر ہے۔خلافت کے پہلے سال کی شدید مصروفیات کو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ آپ کو ٹھوس علمی تصانیف کے لئے وقت کیسے میسر آتا تھا لیکن اپنے عظیم باپ کی طرح آپ کو بھی اللہ تعالے نے غیر معمولی استعدادوں سے نوازا تھا جیسا کہ آپ خود اپنے کلام میں فرماتے ہیں کہ میں تیز قدم ہوں کاموں میں بجلی ہے مری رفتار نہیں یہ کلام محمودم اس سال کی جملہ تصانیف میں امتیازی شان اور غیر معمولی کشش کا حامل آپ کا وہ سلسلہ وار مضمون تھا جو تاریخ اسلام کے وسیع عنوان کے تحت سیرت نبوی صلے اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر ہفتہ والد الفضل میں شائع ہوتا رہا۔یہ مضمون آپ نے منصب خلافت پر متمکن ہونے سے قبل ہی شروع کر رکھا تھا۔لیکن خلافت کی غیر معمولی اور وسیع ذمہداریوں کی بناء پر کچھ عرصہ یہ سلسلہ تعطل کا شکار رہا۔پھر اچانک آپ کی توجہ اس اہم مضمون کی طرف پھیری گئی اور دیگر مصروفیات کے باوجود آپ نے بالاقساط اس مضمون کو رقم کرنے کا ارادہ فرمایا۔الفضل کی جلدوں کو اس مضمون نے ایک عجیب دلکشی اور نشان محبوبی