سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 367
احمد تیت کا جوش لے کر اُٹھیں۔تا خدا تعالے کا دین اطراف عالم میں پھیل جائے۔اس لئے میں یہ نہیں کہتا کہ تم قرآن پڑھو بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی پڑھاؤ تا کہ جس طرح تم اس دنیا میں اکٹھے ہو۔اگلے جہان میں بھی اکٹھے ہی رہو۔یہ کوئی معمولی بات نہیں۔میں اس کو سختی سے محسوس کر رہا ہوں اس لئے سخت تاکید کرتا ہوں کہ عورتوں کو پڑھا کی طرف جلدی توبہ کرو (الفضل ۵ اگست ته) یا اس امر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہ عورتوں کے تعلیمی ادارے کسی قسم کے ہوتے چاہتیں جو ان کی کم از کم تعلیمی ضرورتوں کو پورا کر سکیں آپ نے حسب ذیل الفاظ میں روشنی ڈالی :۔عورتوں کے سکول ایسے ہوں کہ سکھائی پڑھائی یا حساب کی ابتدائی باتیں سکھا کہ یکدم عورتوں کو جو دینی باتیں ہیں۔ان کی طرف لے جایا جائے۔قرآن شریف پڑھایا جائے۔مسائل سیکھائے جائیں تاکہ بچوں کی تربیت کرسکیں۔امور خانہ داری سکھائے جائیں۔اس کے لئے ان کے واسطے کتابیں لکھی جائیں درپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء ص۶۳) i مخلوط تعلیم کے اگرچہ آپ خلاف تھے لیکن اس امر کے خلاف نہیں تھے کہ ایک ہی نمرہ میں اگر لڑکے لڑکیوں کا علیحدہ باپردہ نشست کا انتظام ہو تو انہیں اکٹھی تعلیم دے دی جائے۔جب ۱۹۲۶ ء میں پہلی بار یہ سوال پیدا ہوا تو چونکہ ہائی سکول کے طلبہ اور طالبات کا معاملہ تھا جن کی عمر نا پختہ ہوتی ہیں بلکہ وہ عمر کے ایسے دور میں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔جبکہ نفسیاتی لحاظ سے ٹھوکر کھانے کے احتمالات بہت زیادہ ہوتے ہیں آپ نے اس امر کی اجازت نہیں دی اور فرمایا :- میرے نزدیک اس میں تو کوئی حرج نہیں کہ اگر ضرورت ہو تو درمیان میں پردہ ڈال کر ایک طرف لڑکے بیٹھے ہوں اور دوسری طرف لڑکیاں۔اور تعلیم حاصل کریں۔لیکن خوابیاں