سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 344
مستورات سے جو آپ نے خطاب فرمایا وہ عورت کے مقام کے بارہ میں آپ کے نظریات عورت کی ترقی کے سلسلہ میں آپ کی دلی تڑپ اور تمناؤں کا آئینہ دار ہے آپ نے فرمایا :- " عورتوں نے اپنے آپ کو خود ہی ذلیل اور کم درجہ سمجھ لیا ہے۔ورنہ اللہ تعالے نے تو ان کے بھی آدمی پیدا کیا تھا۔۔۔۔۔کان دل، زبان جو علم کے حصول کے لئے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے ویسے ہی دیئے ہیں جیسے مردوں کو۔انہوں نے خود ہی سمجھ رکھا ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتیں۔کم علم ہیں۔ناقص العقل ہیں یہ خیالات غلط ہیں۔تم اپنی اولادوں پر رحم کرد نہیں دین اسلام سکھاؤ۔کیونکہ پہلا مدرسہ والدہ کی گود ہے۔اپنے خاوندوں۔اپنے بھائیوں۔اپنے بیٹوں کو مجبور کرو کہ وہ تمھیں اللہ کی کتاب سکھائیں۔اسلام کے لئے دل میں درد پیدا کرو۔۔۔۔۔کیا تم سکھ کی نیند سوڈگی اگر تمہارا کوئی بچہ پیڑا تڑپ رہا ہو۔اسی طرح اسلام پیاسا بھو کا تڑپتا ہے۔اس کی خبر گیری کرد۔۔۔۔تم خدا کے لئے اپنے اندر اسلام کے لئے درد پیدا کرو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت عورتوں نے اپنی نمایاں کامیابیاں حاصل کی تھیں کہ بڑے بڑے مرد ان پورفخر کرتے تھے۔قریباً نصف احادیث کی بیان کرنے والی عور نہیں ہی ہیں۔سو اگر تم کرنے لگو تو بڑے بڑے عظیم الشان کام اب بھی کر سکتی ہو یا ( الفضل ۳ جنوری شاید حتہ کالم ہیں) پھر ایک اور موقع پر فرمایا :- یا د رکھو کہ کوئی دین ترقی نہیں کر سکتا جب کہ عورتیں ترقی نہ کریں پیپس اسلام کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ تم بھی ترقی کرو۔عورتیں کمرہ کی چار دیواروں میں سے دو دیواریں ہیں اگر کمرہ کی دو دیواریں گر جائیں تو کیا اس مرہ کی چھت ٹھہر سکتی ہے" د الفضل ۲۲ جنوری ۴۱۹۲۳