سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 305

۳۰۵ گاندھی جی جلسہ شروع ہوئے۔شروع ہونے سے پہلے دفتر زمیندار میں تشریفت لائے وہ بعض خلافتی رہنماؤں سے گفتگو میں مصروف تھے اور میں چلکوٹ گورے اور حبیب اللہ خاں مہاجر شہید کے متعلق کا غذات لئے گاندھی جی کے سر پر کھڑا تھا۔بڑی مشکل سے جب وہ فارغ ہوئے تو میں نے سارا معاملہ انہیں سمجھایا۔اتنے میں ہزار ہا حاضرین جلسہ دبھی تکلیف انتظار سے مضطرب ہو کر دفتر زمیندار کے سامنے سڑک پر جمع ہو گئے اور فلک شگاف نعرے لگانے لگے۔مہاتما گاندھی جی کی ہے۔ہندوستان کی ہے۔ہندو مسلمان کی ہے۔بندے ماترم۔اللہ اکبر - ست سری اکال - آخر گاندھی جی اُٹھے اور جلسہ میں شامل ہونے کے لئے چلے۔رضا کاروں نے ہجوم میں سے راستہ نکالا۔گاندھی جی جلسہ گاہ میں پہنچے تو جوش خروش کی انتہا نہ تھی۔پہلے دوسرے لیڈروں نے تقریر میں کیں۔اس کے بعد گاندھی جی نے مجمع کو خطاب کیا اور مولوی ظفر علی خاں کی گرفتاری پر احتجاج کرتے ہوئے وہ فقرہ کہا جو یار لوگوں کی محفلوں میں مدت تک سرمایہ قہفتہ بنا رہا۔مولوی جپھر آلی کھاں اپنا پھر جا بجاؤ چند ہفتوں کے بعد گاندھی جی پھر تشریف لائے۔اس مرتبہ اُن کے ساتھ رہنماؤں کی پوری جماعت تھی۔مولانا ابوالکلام کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے تھے۔ہندو مولانا محمد علی کے چرنوں کی دھول آنکھوں سے لگاتے تھے اور مسلمان گاندھی جی کی پذیرائی یوں کرتے تھے گویا کسی خدا رسیدہ ولی نے لاہور کو اپنے قدوم سے مشرف فرمایا ہے۔بہت شاندار تقریریں ہوئیں اور اہلِ لاہور کو یقین ہو گیا کہ اب خلافت کی بحالی اور ملک کی آزادی کوئی دن کی بات ہے کہ نہ یکھ ادھر مسلمان ایک ہندو مہاتما کی قیادت میں ایک خیالی جنت کے خواب دیکھ رہے تھے اور اسے ایک ایسا خدا رسیدہ ولی قرار دے رہے تھے جو صدیوں کے بعد عالم اسلام کو نصیب کے سرگزشت مصنفه عبدالمجید سالک صفحه ۱۲۴ - ۱۲۵