سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 302
تصدیق کی مہر لگا چکا ہے۔یہ راہ اختیار کیا تھا کہ وہ ترکوں کے درباروں اور ان کی کھلی مجالس میں گھس گئے تھے اور انہوں نے مسلمانوں کے جسموں پر فتح پانے والوں کے دلوں پر فتح پانے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔آخر اس موالات کا یہ اثر ہوا کہ اس بادشاہ کا پوتا جس نے بغداد کی اسلامی حکومت کو تباہ کیا تھا اور اٹھارہ لاکھ مسلمان کے خون سے اس سر زمین کو رنگ دیا تھا اسلام کی غلامی میں داخل ہوا۔اور خدائے واحد لا شریک کے عبادت گزاروں میں شامل ہو کر ایک نئی اسلامی حکومت کا بانی ہوا جس کے آثار اب موجودہ جنگ میں آکر مٹے ہیں بلکہ اب بھی کچھ نہ کچھ موجود ہیں۔وجہ کیا ہے کہ اب وہی نسخہ نہیں برتا جاتا۔بلکہ اس کے بالکل برعکس علاج کیا جاتا ہے۔اگر اُس وقت کے مسلمانوں نے موالات کو اختیار کر کے اسلام کی حفاظت کی تھی، تو آج ترک موالات کی کیوں تعلیم دی جاتی ہے۔کیا کوئی کامیاب نسخہ کو بھی ترک کیا کرتا ہے ؟ کیا اب اسلام میں ہی ایسا جذب نہیں رہا کہ وہ فاتحین کے دلوں کو مسخر کر سکے ؟ یا تم میں ہی وہ نور ایمان نہیں رہا جو تمہارے آباد میں تھا ؟ ان کی باتوں کا دلوں پر اثر ہوتا تھا لیکن تمہاری باتیں بالکل بے اثر ہیں۔کیا سبب ہے کہ وہ محبت سے دشمن کو دوست بنا لیتے تھے۔اور تم دوست کو عداوت سے دشمن بنانا چاہتے ہو۔یا دوست نہ سہی دشمن کو اور ہو۔بھی زیادہ دشمن بنانا چاہتے ہوئے لے بهر حال جیسا کہ آپ کو خدشہ تھا اور تلخ تجربہ ہو چکا تھا۔آپ کی یہ تنبیہ بھی صدا بصحرا ثابت ہوئی نہ تو مسلمان خواص ہی نے اس طرف توجہ کی نہ عوام اس سے استفادہ کر سکے۔عوام تو پھر عوام تھے۔حیرت ہے کہ اس زمانے کے دانشوروں کو کیا ہو گیا تھا۔آج کا قاری اس دور کے شب و روز کا صحیح تصور قائم نہیں کر سکتا۔جب تک موازنہ کی خاطر ان تصورات اور حالات کی کچھ جھلکیاں نہ دکھائی جائیں جن میں دوسرے مسلمان خواص و عوام زندگی بسر سے ترک موالات اور احکام اسلام A4-AD