سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 296
۲۹۶ کرتے اور انہیں خوب اس عزم میں پختہ کرتے کہ اسلام کی خدمت کا یہی وقت ہے لہذا اپنا سب کچھ قربان کر کے انگریز کا سر کھیل کر رکھ دو۔یہ صورتِ حال مسلمانان ہند کے لئے اتنی خطرناک تھی کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ جیسا نڈر مجاہد اس موقع پر خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔چنانچہ اس علم کے باوجود کہ اس موقع پر سچی اور درست بات کہنا مسلمانوں کی شدید دشمنی مول لینے کے مترادف ہے۔آپ نے محض اسلام کی محبت اور مسلمانوں کی خیر خواہی سے مجبور ہو کر بیش قیمت نصائح اور علمی دلائل پر مشتمل دو مشہور کتاب لکھی جو ترک موالله اور احکام اسلام ہی کے نام سے طبع کروا کر دانشوروں میں تقسیم کی گئی۔آپ خوب جانتے تھے کہ آپ کا یہ مشورہ بھی پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جائے گا لیکن آپ دنیا کی پسندیدگی اور ناراضنگی سے بے نیاز تھے اور اپنے ہر فعل کو محض رضائے الہی کی کسوٹی پر پرکھنے کے عادی تھے۔اسی لئے آپ نے اپنی نصائح کے امکانی رقہ عمل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :- میں جانتا ہوں کہ ترک موالات کے بانیوں کو میری یہ تحریر تبری لگے گی اور اُن کے فریب خوردہ ساتھی بھی اس پر غصہ کا اظہار کریں گے۔مگر اُن کی ہمدردی اور ان کی خیر خواہی مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں سچی سچی بات اُن کو سُنا دوں۔حق ایک سخت کڑوی چیز ہے اور بہت دفعہ انسان خود اپنے آپ کو حق سُنانے سے بھی ڈر جاتا ہے مگر ہم نے اپنی زندگیاں اسی لئے وقف کی ہوئی ہیں اور خدا کے بندوں کی ہدایت کا بار اپنے سروں پر اٹھایا ہے اور کسی کی مخالفت یا عداوت کی ہمیں پرواہ نہیں۔طبیب کبھی بیمار کی سختی کو دیکھ کر علاج کو ترک نہیں کرتا۔پس ہم بھی اپنے کام سے باز نہیں رہ سکتے اور اپنے بھائیوں کی اصلاح سے مایوس نہیں ہیں کیا کہ اس کتاب کے تعارفی کلمات میں بھی آپ صاحب دل اور اہل درد اصحاب سے اپیل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- پس میری ان تمام اصحاب سے جو ملت خیر انام سے محبت رکھتے ہیں لے ترک موالات اور احکام اسلام ص السلام الامر