سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 295 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 295

۲۹۵ نہ عالم اسلام کو۔نعروں۔ہلڑ بازی اور گالی گلوچ نے اتحادی طاقتوں کو کچھ اور بھی مسلمانوں سے بدظن کر دیا لیکن ان کی داد رسی پہ آمادہ نہ کیا۔یہ دور ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے شدید بے چینی کا دور تھا۔جذبات مشتعل ہو چکے تھے۔دینی غیرت جوش میں تھی اسلام کے لئے عوام الناس جان نذر کرنے کے لئے تیار کھڑے تھے۔کچھ کر گزرنے کو جی چاہتا تھا۔مگر کیا ہونا چاہیے تھا اور کیا کرنا چاہیئے تھا اس کی کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔بالاخر یہ جوش و فروش اس مشہور تحریک ترک موالات پر مرتکزہ ہوا جسے تحریک خلافت بھی کہا جاتا ہے اس وقت کے مسلمان رہنماؤں کی اکثریت اس بات پر متفق ہو چکی تھی کہ خلافت عثمانیہ کو از سیر تو قائم کرنے اور ترکوں کو ان کے غصب شدہ حقوق دلانے کے لئے انگریزوں پر ایسا شدید سیاسی دباؤ ڈالنا چاہیئے کہ وہ مسلمانوں کی خواہش کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو جائیں چنانچہ آپس کی مشاورتوں کے بعد یہ طے کر لیا گیا کہ انگریزوں سے ترک موالات کی جائے جس کے معنے یہ تھے کہ ہر میدان میں عدم تعاون ہو۔خطابات واپس کئے جائیں۔فوجی اور سول نوکریوں سے استعفے دیئے جائیں۔وکیل وکالت کی ڈگریاں واپس کردیں۔مسلمان طلباء کا لجوں سے اُٹھ آئیں اور آئندہ کوئی طالب علم سکولوں اور کالجوں میں داخل نہ ہو سب سے بڑھے کہ یہ کہ اہلِ ایمان کے لئے جہاں تک ممکن ہو وہ اپنی جائیدادیں فروخت کر کے پونجی بغل میں داب ہندوستان سے افغانستان کی طرف ہجرت کر جائیں۔آج آپ کو یہ باتیں خواہ کیسی ہی عجیب کیوں نہ دکھائی دیں۔کل انہی باتوں پر ہندوستان کے کم و بیش تمام مسلمان لیڈر متفق ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔شمال سے جنوب تک کوئی ہنگامہ سا ہنگامہ تھا۔مسلمانوں میں سے وہ سنجیدہ طبقہ جو اس تحریک کو ایک سنگین مذہبی اور سیاسی غلطی شمار کرتا تھا۔محض ایک معمولی اور بے اثر اقلیت کی حیثیت رکھتا تھا۔کون تھا تو اسے لب کشائی کی اجازت دیتا۔اور کس کی مجال تھی اور کیسے یہ طاقت تھی کہ تحریک ترک موالات کے خلاف ایک لفظ تک زبان سے نکال سکے۔اس زمانے کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی فکر کا گویا دوالہ نکل چکا تھا تس پیر ظلم کی انتہاء یہ تھی ک عالیم اسلام کی بہبود کے لئے اس ملک گیر تحریک کی قیادت عملا تھا تھا گاندھی کو سونی جا رہی تھی۔بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ترک موالات کی بیٹی ہی مہاتما جی کی پڑھائی ہوئی تھی مسلمان علماء کی مجلس میں وہ شریک ہوتے۔ان کے جلسوں کی صدار