سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 276
۲۶ اس پس منظر میں جنگ عظیم اول کا آغاز ہوا۔جرمنی نے اس صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے ترک خلافت کی خیر خواہی کا روپ دھار کر خلیفہ عبدالحمید کو ایسے سبز باغ دکھائے کہ اس نے جرمنوں کا حلیف بن کر میدانِ جنگ میں کودنے کا فیصلہ کر لیا۔یہ فیصلہ بالخصوص ہندوستان کے مسلمان حلقوں میں بڑی پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔انہوں نے سمجھا کہ اب انگریزوں کی غلامی سے نجات پانے کا وقت آگیا اور بڑی بڑی اُمنگیں اُن کے دلوں میں کر دیں لینے لگیں۔یہ خیال کیا جانے لگا کہ جرمنی اور تریکی مل کر دنیا کی نئی بانٹ اس طرح کریں گے کہ وہ تمام مسلمان علاقے جو روس نے پہلے ہتھیائے تھے یادہ چھوٹی چھوٹی شمالی ریاستیں جو قبل ازیں ترکی حکومت کے اثر سے آزاد ہو چکی تھیں عالم اسلام کو دوبارہ عطا ہوں گی اور اسلامی خلافت نئی شان اور نئی قوت کے ساتھ دنیا میں پھر ابھرے گی مگر ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں میں ایک صاحب بصیرت راہ نما ایسا بھی تھا جس نے اس صورت حال کو مختلف رنگ میں دیکھا اور اس جنگ میں خلافت ترکیہ کے جرمنی کی طرف سے شامل ہو جانے کے فیصلہ کو ایک ایسی سنگین غلطی قرار دیا جو عالم اسلام کے لئے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔یہ رہنما جماعت احمدیہ کے امام حضرت خلیفہ ایسیح الثانی تھے۔آپ کا یہ اختلاف رائے اور بھی زیادہ مجیب نظر آتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خود ترکی میں بھی رائے عامہ ہندوستان کی رائے عامہ کے مطابق جرمنی کے ساتھ شمولیت کو درست اقدام تصور کر رہی تھی یہانتک کہ وہ سیاسی راہ نما جنہوں نے سلطان عبد الحمید کے خلاف انقلابی مہم کا آغاز کیا تھا یعنی طلعت پاشا۔انور پاشا - جمال پاشا وغیرہ۔وہ سب بھی سلطان سے اپنے اختلافات کے باوجود جرمنی کا حلیف بننے کے فیصلہ کو درست سمجھتے تھے۔ترکی میں ایک استثنائی شخصیت تھی اور وہ کمال اتاترک کی ذات تھی جس نے ابتداء ہی سے اس فیصلہ کو غلط اور غیر دانشمندانہ قرار دیا۔اور گو قوم کے ساتھ مل کر وہ جرمنوں کی طرف سے جنگ لڑنے پر مجبور ہوگیا لیکن بعد ازاں حالات نے ثابت کر دیا کہ اس کی رائے ہی درست تھی اور ترکی کو اس غلط فیصلے کی پاداش میں بڑی ہولناک قربانی دینا پڑی ہے القصہ حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی سیاسی بصیرت کا اس امر سے بھی اندازہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی آنکھ نے ہزاروں میل کے فاصلے سے وہ کچھ دیکھا جو اہالیان ترکی کی کروڑوں عصر آنکھیں نزدیک سے نہ دیکھ سکیں۔جہاں تک ہندوستان کے مسلمانوں کا تعلق ہے وہ خلافت ترکیہ کا ایک ایسا خوش آئند اور بعید از حقیقت تصور رکھتے تھے کہ ان کے نزدیک یہ سوچنا بھی غداری کے له (22 PAGE ( GRAY WOLF۔