سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 275 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 275

مصر اور قبرص پر قبضہ جما چکا تھا۔ایسے حال میں نئی وسعت پذیر طاقت جرمنی نے سلطان عبدالحمید کو بقیہ یورپ کے مقابل پر ہیرو بنا کر آگے کیا جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ جونہی دوسرے دشمنوں کا قصہ پاک ہو تر کی پر بھی قبضہ کر لیا جائے۔تمام قومیں ترکی سے خصوصی مراعات اور حقوق کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ایسے گڑھوں کی طرح جو کسی جانور کی موت کے انتظار میں بیٹھے ہوں ، عیسائی طاقتیں ترکی کے آخری سانس کا انتظار کر رہی تھیں ایک دوسری سے ڈرتی ہوئی اس عالمگیر تباہی کی تیاری میں مصروف جسے جنگ عظیم کہا جاتا ہے وہ ایک دوسرے کی حاسدانہ نگاہوں کے ساتھ نگرانی کر رہی تھیں۔کسی ایک طاقت کو یہ محال نہ تھی کہ تنہا ہیں کر سکے۔اس لئے عثمانیہ سلطنت میں زندگی کی رمق باقی رہی جبکہ سرخ سلطان عبد الحمید اپنے باسفورس کے محلات میں شاطرانہ چالیں چلتا ہوا ایک قوم کو دوسری سے لڑانے میں مصروف تھا یا نہ عربوں کا ایک بڑا حصہ شدت سے یہ محسوس کر رہا تھا کہ مذہب کے نام پر ایک غیر قوم کو ان پر حکومت کا ایک بہانہ ہاتھ آیا ہوا ہے اور اگر ندیسی اشتراک ہی اس حکومت کا جواز پیش کرتا ہے تو پھر عرب بحیثیت قریش اس کے اولین حقدار ہونے چاہئیں جن میں اسلام کا سراج منیر ضیا ریز ہوا تھا۔ترکی حکومت کا شمالی علاقہ جو کئی ریاستوں پر مشتمل تھا پہلے ہی چھینا جا چکا تھا اور بلقان کی یورپین ریاستیں جن کے مشرق میں سجر اسود ہے اور مغرب میں ADRIATIC SEA اور جنوب میں AEGEAR SEA - جنگ بلقان کے نتیجہ میں ترکی کے ہاتھ سے چھن چکی تھیں۔صرف قسطنطنیہ اور گیلی پولی کا تھوڑا سا علاقہ بچا تھا جو ترکی کے قبضہ میں باقی رہا تھا۔دوسری طرف عربوں کا ایک حصہ بھی اپنی گردن سے عثمانیہ حکومت کا جوا اتار پھینکنے کے لئے بے چین تھا علیحدگی کے ان رجحانات کو انگریز مزید ہوا دے رہے تھے۔ماضی میں عثمانیہ سلطنت کے ہاتھوں عظیم عیسائی طاقتوں کو جو بار بار زک پہنچ چچی تھی اس کے زخم ابھی تک ہرے تھے مگر تہذیب و تمدن کے لبادے اوڑھے ہوئے یہ قومیں محض کسی ظاہری بہانے کے انتظار میں اس شکار کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی تھیں۔(INTRODUCTION PAGE IX-X) GRAY WOLF By H۔C۔ARMSTRONG METHUEM & CO LTD۔LONDON, 36 ESSEX ST STBAND W-C 2۔