سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 259 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 259

۲۵۹ سمجھائے جائیں گے۔جلسہ میں پہنچ کر جب میں تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو کوئی آیت سوائے سورہ فاتحہ کے میری زبان پر ہی نہ آئے۔آخر میں نے خیال کیا کہ میرا امتحان ہونے لگا ہے اور مجھے مجبور اسورہ فاتحہ پڑھنی پڑی۔اس کے متعلق کوئی بات میرے ذہن میں نہ تھی میں نے یونسی پڑھی۔لیکن پڑھنے کے بعد فورا میرے دل میں ایک نیا نکتہ ڈالا گیا۔اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب سورة فاتحہ اُتری ہے اس وقت آپ کے مخاطب کفار تھے۔یہودی اور عیسائی نہ تھے۔مگر دُعا اس میں یہ سکھائی گئی ہے کہ ہمیں بیو دی اللہ عیسائی بننے سے بچا کہ ہم ان کی طرح نہ نہیں۔حالانکہ چاہئیے یہ تھا کہ جو سامنے تھے ان کے متعلق دعا سکھائی جاتی۔کہ ہم ان کی طرح نہ نہیں۔اس میں یہ نکتہ ہے کہ مشرکین نے چونکہ تباہ و برباد ہو جانا تھا اور بالکل مٹائے جانا تھا اس لئے ان کے متعلق دعا کی ضرورت نہ تھی لیکن عیسائیوں اور یہودیوں نے چونکہ قیامت تک رہنا تھا اس لئے ان کے متعلق دعا سکھائی گئی۔یہ نکتہ معا مجھے سمجھایا گیا۔اور میں نے خدا تعالے کا شکریہ ادا کیا کہ اس موقعہ پر اس نے میری آبرو رکھ لی - پس ملائکہ کے ذریعے علوم سکھائے جاتے ہیں محی الدین ابن عربی فتوحات مکیہ میں لکھتے ہیں کہ مجھے بہت سے علوم ملائکہ نے سکھائے ہیں بولت اس کے بعد فرشتوں کے وجود کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اپنا ذاتی تجربہ ان الفاظ میںمیر " مجھے ذاتی طور پر اس بات کا تجربہ ہے کہ ہر چیز یہ ملائکہ کا قبضہ ہے اور ان کے ارادے کے تحت وہ چیز کام کرتی ہے۔ایک دفعہ مجھے بخار ہوا۔ڈاکٹر نے ودائیں دیں مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ایک دن چوهدری ظفر اللہ خاں صاحب آئے ان کے ساتھ ایک بغیر احمدی بھی تھے۔اُن کو میں نے اپنے پاس بلا لیا۔اُن کے آنے سے پہلے مجھے غنودگی آئی اور ایک مچھر میرے سامنے آیا اور کہا آج آپ ٹوٹ جائے گا۔جب ڈاکٹر صاب له ملائكة الله نه ناسم