سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 21
پچپی اور میرے پاس تھا ہی کیا ؟ میں نے بار بار عرض کی کہ میرے پاس نہ علم ہے نہ دولت نہ کوئی جماعت ہے نہ کچھ اور ہے جس سے یکیں خدمت کر سکوں۔مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ اس نے میری دعاؤں کو سُنیا اور آپ ہی سامان کر دیئے اور تمھیں کھڑا کر دیا کہ میرے ساتھ ہو جاؤ" (ص ۱۷) "چونکہ مجھے تبلیغ کے لئے خاص دلچسپی رہی ہے۔اس کے ساتھ عجیب عجیب ولولے اور جوش پیدا ہوتے رہتے ہیں اور اس تبلیغی عشق نے عجیب عجیب ترکیبیں میرے دماغ میں پیدا کی ہیں۔ایک بار خیال آیا کہ جس طرح پر اشتہاری تاجر اخبارات میں اپنا اشتہار دیتے ہیں میں بھی چین کے اخبارات میں ایک اشتہار تبلیغ سلسلہ کا دوں۔اور اس کی اُجرت دے دوں۔تاکہ ایک خاص عرصہ تک وہ اشتہار چھپتا رہے مثلاً یہی اشتہار کہ مسیح موعود آگیا بڑی موٹی مسلم سے اس عنوان سے ایک اشتہار چھپتا رہے۔غرض میں اس جوش اور عشق کا نقشہ الفاظ میں نہیں بھینچ سکتا۔جو اس مقصد کے لئے مجھے دیا گیا ہے " (ص ۲۳) زبانیں سکھانے کا پروگرام ر یہ ضروری سوال ہے کہ مبلغ کہاں سے آویں ؟ اور پھر چونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر قوم اور ہر زبان میں ہماری تبلیغ ہو" اس لئے ضرورت ہے کہ مختلف زبانیں سکھائی جاویں حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں میں نے ارادہ کیا تھا کہ بعض ایسے طالب علم ملیں جو سنسکرت پڑھیں اور پھر وہ ہندوؤں کے گاؤں میں جا کر کوئی مدرسہ کھول دیں۔اور تعلیم کے ساتھ تبلیغ کا سلسلہ بھی جاری رکھیں۔اور ایک "۔