سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 251
۲۵۱ کے مخصوص تعلقات کا بیان شروع کیا کہ غیر احمدی خود شرمندہ ہو ہو کر اپنے مونہوں پر رومال رکھنے لگے اور کہتے اچھا ہوا یہ لیکچر رات کو ہوا اور کوئی غیر مذہب کا آدمی اس میں شامل نہیں ہوا اور نہ بڑی ذلت ہوتی یہ ہے اسی تقریر کے دوران آپ نے حقیقی عہد بننے کے طریق بیان فرماتے ہوئے نماز با جماعت کی اہمیت پر بہت زور دیا۔نیز تعدد ازدواج پر اور مسئلہ سود پر بھی بحث کی جو مطبوعہ تقریر کے مدہ نام پر درج ہے۔سود کے بارہ میں اسلامی نظریہ پر جو احباب تحقیق کرنا چاہیں انہیں ان صفحات کے مطالعہ سے بہت سے رہنما اصول ہاتھ آسکتے ہیں۔ملائكة الله ملائکتہ اللہ آپ کی وہ معرکۃ الآراء تقریر ہے جو آپ نے ۲۸؍ دسمبر شاہ کو جلسہ سالانہ کے موقع پر مسجد نور قادیان میں فرمائی۔مضمون کے ابتدائی تعارف کے بعد آپ نے ملائکہ کے بارہ میں مسلمانوں کا رائج الوقت تصور بیان فرماتے ہوئے اس کی غیر معقولیت کو ثابت فرمایا اور بتایا کہ در حقیقت رائج الوقت تصویر ہرگز قرآن و حدیث کی تعلیم پر مبنی نہیں بلکہ وہ توہمات اور خیالات ہیں جو غیر قوموں سے ماخوذ ہیں۔آپ نے یہ ثابت کیا کہ یہ ایک ایسا غلط تصور ہے جس کے ہونے یا نہ ہونے سے دین اسلام میں کوئی بھی فرق نہیں پڑتا۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- لوگوں کو ملائکہ کے متعلق جو ایمان ہے وہ نانوے فیصدی لوگوں میں اتنا کم ہے کہ اگر اس کی نفی کر دی جائے تو ان کے موجودہ ایمان میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔اور ان کے ماننے کی وجہ سے ان کے ایمان میں کوئی زیادتی نہیں ہے۔حالانکہ ہر ایک ایمانی مسئلہ کے یہ معنے ہیں کہ وہ بہت بڑا اہم مسئلہ ہے۔اس کے فائدے بھی بہت بڑے ہیں اور اس کو ترک کرنے کے نقصان بھی بہت بڑے ہیں نہ یہ کہ صرف منہ سے کہہ دیں کہ فلاں بات ہم نے مان لی تو کافی ہو جاتا ہے اگر ہمیں ان سے کوئی فائدہ نہیں تو ان پر ایمان لانے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر کوئی کہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فرشتے تعلیم لائے له تقدیر ای ماه۔۔۔۔۔