سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 250 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 250

٢٥٠ پھر ساری حقیقت سنائی۔غرض مومنوں کے ایمان کو تازہ کرنے کے لئے اللہ تعالے کبھی کبھی تقدیر بلا اسباب کے بھی ظاہر کرتا ہے تا خدا تعالیٰ کی قدرت کا ثبوت ان کو ملے لیکن کا فر کا یہ حق نہیں ہوتا کہ اس قسم کا مشاہدہ کرایا جائے ہیں یہ تقریر تقدیر الہی کے مسئلہ پر ہر پہلو سے بحث کرتی ہے اور مختلف قدیم وجدید اعتراضنا کے جوابات بھی اس میں دیئے گئے ہیں۔تقدیر کے ذکر میں آپ نے سات روحانی مقامات کا ذکر بھی فرمایا ہے جو تقدیر الہی کے مسئلہ کو صحیح معنوں میں سمجھ کر اس کے تقاضے پورے کرنے کے نتیجہ میں انسان کو مل سکتے ہیں۔گویا کہ روحانی ترقیات کے سات آسمان ہیں جن کی رفعتوں پر یب سے اوپر ہمیں آنحضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ گر نظر آتے ہیں۔ا الہ کے اسی جلسہ میں جس میں تقدیر الہی کے موضوع پر تقریر ہوئی۔۲۷ دسمبر کی تاریخ انتظامی اور متفرق امور پر خطاب کے لئے وقف تھی لیکن عمومی نصائح کے دوران اس تقریر میں آپ نے بعض دیگر علمی مسائل پر بھی روشنی ڈالی خصوصا معبود اور عید کے تعلقات۔روح کے خدا سے عہد اور جنت کی حقیقت پر نہایت لطیف بحث فرمائی۔جنت کے ذکر میں آپ نے اس زمانے کے مسلمانوں کا جنت کے بارہ میں وہ عام نفتہ بھی پیش کیا جو ظاہر بین مولوی مسلمانوں کے سامنے کھینچا کرتے تھے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :- ایک دفعہ ہم ندوہ کے جلسہ پر گئے جو مسلمانوں کا بڑا نذہبی تعلیم کا مرکز مانا جاتا ہے۔اس میں ایک مولوی صاحب کا وعظ نماز کی خوبیوں پر تھا۔مولوی صاحب نے کھڑے ہو کر کہا نماز پڑھنے کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ خدا تعالے نے کہا ہے جو نماز پڑھے گا اسے جنت ملے گی۔اور جنت کیا ہے؟ یہ کہ کر اس نے جنت کا نقشہ اس طرح کھینچنا شروع کیا کہ اس میں بڑی خوبصورت اور حسین عورتیں ہوں گی اور یہ ہوگا وہ ہو گا۔اس کا وعظ سُن کر میں نے کہا سرسید نے کسی ایسے ہی مولوی کا جنت کے متعلق وعظ سُن کر کہا ہوگا یہ جنت جو آج کل کے مسلمان پیش کرتے ہیں وہ چکا ہے۔ان مولوی صاحب نے ایسے شرمناک طور پر عورت اور مرد له تقدیر الی ۱۳۵۰ تا ص ۱۳