سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 249
۲۴۹ اور یہ ایمان، ایمان بالغیب نہ ہوتا۔(۲) دوسری قسم اس قسم کی تقدیر کی وہ ہے جس میں اسباب موجود بھی نہیں ہوتے اور ساتھ شامل بھی نہیں کئے جاتے۔یہ تقدیر صرف نبیوں اور مومنوں کے سامنے ظاہر ہوتی ہے دوسروں کے سامنے نہیں ہوتی کیونکہ دوسروں کے سامنے اگر یہ تقدیر ظاہر ہو تو وہ ایمان حاصل کرنے کے ثواب سے محروم رہ جا دیں۔لیکن مومن جو ایمان بالغیب لاچکتے ہیں ان کو ایمان بالشہادت اس تقدیر کے ذریعے سے دیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے وہ خاص طور پر ایمان میں ترقی کرتے ہیں۔اس قسم کی تقدیر کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام کی زندگی میں آپ کے گرتہ پرچھینٹیں پڑنے کا واقعہ ہے۔ایک دفعہ آپ نے رویا، میں دیکھا کہ میں خدا کے سامنے کچھ کا غذات لے کر گیا ہوں اور ان کو خدا کے سامنے پیش کیا ہے۔خدا نے ان پر دستخط کرتے وقت قلم چھڑ کا ہے اور اس کے قطرے میرے کپڑوں پر پڑے ہیں۔حضرت صاحب کو جب یہ کشف ہوا اس وقت مولوی عبداللہ صاحب سنوری آپ کے پاؤں داب رہے تھے۔دباتے دباتے انہوں نے دیکھا کہ حضرت صاحب کے مٹنے پر سرخ رنگ کا چھینٹا پڑا ہے جب اس کو ہاتھ لگایا تو وہ گیلا تھا جس سے وہ حیران ہوئے کہ یہ کیا ہے۔میں نے ان سے سوال کیا تھا کہ آپ کو خیال نہ آیا کہ یہ چھینٹے غیر معمولی نہ تھے بلکہ کسی ظاہری نہ سبب کے باعث تھے اور انہوں نے کہا مجھے اس وقت خیال آیا تھا، اور میں نے ادھر اُدھر اور چھت کی طرف دیکھا تھا کہ شاید چھیتی کی دم کٹ گئی ہو اور اس میں سے خون گرا ہو مگر چھت بالکل صاف خون مگر تھی اور ایسی کوئی علامت نہ تھی جس سے چھینٹوں کو کسی اور سبب کی طرف منسوب کیا جا سکتا۔اس لئے جب حضرت صاحب اُٹھے ، تو اس کے متعلق میں نے آپ سے پوچھا۔آپ نے پہلے تو ٹالنا چاہا لیکن