سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 20
حقائق کو کھولا جو اس میں ہیں۔میں نے دیکھا کہ خلافت کے تمام فرائض اور کام اس آیت میں بیان کر دیئے گئے ہیں۔تب میں نے اسی کو اس وقت تمہارے سامنے پڑھ دیا پہلا فرض خلیفہ کا تبلیغ ہے۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں نہیں جانتا کیوں بچپن ہی سے میری طبیعت میں تبلیغ کا شوق رہا ہے۔اور تبلیغ سے ایسا اُنس رہا ہے کہ میں سمجھ ہی نہیں سکتا۔میں چھوٹی سی عمر میں بھی ایسی دعائیں کرتا تھا اور مجھے ایسی حرص تھی کہ اسلام کا جو کام بھی ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو۔میں اپنی اس خواہش کے زمانہ سے واقف نہیں ، کہ کب سے ہے میں جب دیکھتا تھا اپنے اندر اس جوش کو پاتا تھا اور دعائیں کرتا تھا کہ اسلام کا سجود کام ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو پھر اتنا ہو اتنا ہو کہ قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ ہو جس میں اسلام کی خدمت کرنے والے میرے شاگرد نہ ہوں۔میں نہیں سمجھتا تھا اور نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ خوش اور انس اسلام کی خدمت کا میری فطرت میں کیوں ڈالا گیا۔ہاں اتنا جانتا ہوں کہ یہ جوش بہت میرا نا رہا ہے۔غرض اسی جوش اور خواہش کی بناء پر میں نے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ میرے ہاتھ سے تبلیغ اسلام کا کام ہو۔۔اگر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا کوئی خادم اور غلام توفیق دیا جاوے کہ ایک حد تک تبلیغ اسلام کے کام کو کرے تو یہ اس کی اپنی کوئی خوبی اور کمال نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا کام ہے۔میرے دل میں تبلیغ کے لئے اتنی تڑپ تھی کہ میں حیران تھا اور سامان کے لحاظ سے بالکل قاصر۔پس میں اس کے حضور ہی مجھکا اور دُعائیں کیں۔۔۔۔