سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 242 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 242

صفات الہیہ کو اپنے نفس میں جاری کرنے کے ذرائع بیان کرتے ہوئے آپ نے گناہ اور بدی اور نیکی کے موضوعات پر بھی اظہار خیال فرمایا اور ان کی صحیح تعریف سے بھی حاضرین کو روشناس کرایا اور ان ٹھوکر کے مقامات سے بھی متنبہ کیا جو طالب حق کے راستہ میں عموما آیا کرتے ہیں۔اور غیر جانبدار اور منصفانہ محاسبہ کی عادت ڈالنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے فرمایا :- ایک گر بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ خدا نے انسان میں، ایسا غیرت کا مادہ رکھا ہے کہ وہ ایک فصل خود تو کر لیتا ہے لیکن اسی فعل کو اگر کوئی اور اس کے سامنے کرتا ہے تو اسے غیرت آجاتی ہے اور وہ اسے سخت نا پسند کرتا ہے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں نے ایک چور سے پوچھا تھیں چوری کرنا بڑا نہیں معلوم ہوتا۔وہ کہنے لگا بُرا کیونکر معلوم ہو۔ہم محنت و مشقت سے کماتے ہیں اور بڑی بڑی تکلیفیں اُٹھاتے ہیں۔یونسی تھوڑا کہیں سے اُٹھا لاتے ہیں۔فرماتے تھے پر شنکہ میں نے اس سے کچھ اور باتیں شروع کر دیں اور تھوڑی دیر کے بعد پوچھا تم مال آپس میں کس طرح تقسیم کیا کرتے ہو۔اس نے کہا ایک شنار ساتھ شامل ہوتا ہے اُسے سب زیورات دے دیتے ہیں۔وہ گلا کر سونا بنا دیتا ہے یا چاندی یا جیسا زیور ہو۔پھر مقرر شدہ حصوں کے مطابق ہم تقسیم کر لیتے ہیں۔میں نے کہا اگر اس میں سے کچھ رکھ لے تو پھر۔وہ کہنے لگا اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس بد معاش چور کا سر نہ اڑا دیں وہ اس کے باپ کا مال ہے کہ اس میں سے رکھ لے۔اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح انسان اپنے اعمال کو اور نظر سے دیکھتا ہے اور دوسرے کے اعمال اور نظر سے۔پس گناہ کی تعریف اپنے نفس کو مد نظر رکھ کر نہیں کرنی چاہیے بلکہ دوسروں کے اعمال کو مد نظر رکھ کر کرنی چاہیئے یہ لئے آخر پر ہم صرف ایک اور اقتباس دے کہ اس ذکر کو ختم کرتے ہیں یہ اقتباسات محض اس لئے دیئے جارہے ہیں تاکہ اصل کتاب پڑھنے کی طرف تو یہ پیدا ہو اور علم و عرفان کے اس خزانے سے ارمین زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں۔به عرفان اللي مشت