سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 241
۲۴۱ کر لی ہے کہ بعض انسان شریفی گناہ جسمانی بیماری کی وجہ سے کرتے ہیں مگر ابھی یہ بات باقی ہے کہ کس قسم کے لوگوں کو ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیئے۔اور کس قسم کے لوگوں کو رُوحانی طبیب کے پاس۔جب اس کے متعلق بھی فیصلہ ہو جائے گا تو تحقیقات مکمل طور پر پیش کی جا سکے گی یہ ہے برے خیالات کو دل سے نکالنے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے خیالات کے اثرات کی اہمیت ان الفاظ میں بیان فرمائی : در اصل انسان میں قدر کام کرتا ہے وہ خیال ہی کے ذریعہ کرتا ہے۔اگر کہو کہ اور چیزیں جب خیال کے ساتھ ملتی ہیں تب کام ہوتا ہے اکیلا خیال کچھ نہیں کر سکتا اس لئے خیال ہے حقیقت چیز ہے تو میں کہتا ہوں کہ اس طرح تو اس پیج کو بھی بے حقیقت قرار دینا پڑے گا جس سے بڑ کا درخت پیدا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر کوئی شخص بیج کو اس لئے بے حقیقت کہہ سکتا ہے کہ جب تک دوسری چیزیں اس کے ساتھ نہ ملیں اس وقت تک اس سے درخت نہیں بن سکتا۔تو وہ خیال کو بھی بے حقیقت کہہ سکتا ہے لیکن جب بیج کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بے حقیقت ہے تو خیال کے متعلق بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بے حقیقت شے ہے۔پس خوب یاد رکھو کہ خیال کوئی بے حقیقت چیز نہیں ہے بلکہ خیال مادہ ہے تمام چیزوں کا۔کیونکہ اسی سے آگے نتائج نکلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُودُ يُمَا سِبَكُمْ بِهِ اللهُ (۲- ۳۸۵) کہ اے لوگو ! جو خیال تمہارے دل میں آئے اُسے فورا تم عمل میں لاؤ یا پوشیدہ رکھو اللہ تعالے اس کا حساب لے گا۔اس کے یہ معنے نہیں کہ یوں اگر کسی کے دل میں کوئی خیال پیدا ہو گا تو بھی اس سے مواخذہ کیا جائے گا کیونکہ خدا تعالے بھی فرماتا ہے اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں کہ میں بات پر انسان کا میں نہیں اس کا مواخذہ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ہاں اگر یہ خیال آنے پر وہ سوچنا شروع کر دے کہ میں کسی طرح اس سال ہے کو اٹھاؤں کس وقت اُٹھاؤں تو اس کا سوچنا اور تدبیریں کرنا قابل مواخذہ ہوگا۔" عرفان اللى ص۳۲۳ ه عرفان التی ما - ۴۲